کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کے مہر میں اختلاف اور دوسرے شوہر پر اس کے نکاح کے حرام ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15542
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، نا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: ⦗٧٢٥⦘ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا قَالَ: " النِّكَاحُ حَرَامٌ وَالصَّدَاقُ حَرَامٌ وَجَعَلَ الصَّدَاقَ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَقَالَ لَا يَجْتَمِعَانِ مَا عَاشَا ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو اپنی عدت میں شادی کرلے، فرمایا: اس کا نکاح حرام ہے، اس کا حق مہر حرام ہے۔ انہوں نے اس کے حق مہر کو بیت المال میں ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا: جب تک یہ زندہ رہیں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔
حدیث نمبر: 15543
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، أَوْ قَالَ: نُضَيْلَةَ شَكَّ دَاوُدُ قَالَ: رُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةٌ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَقَالَ لَهَا: " هَلْ عَلِمْتِ أَنَّكِ تَزَوَّجْتِ فِي الْعِدَّةِ؟ " قَالَتْ: لَا فَقَالَ لِزَوْجِهَا: " هَلْ عَلِمْتَ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " لَوْ عَلِمْتُمَا لَرَجَمْتُكُمَا فَجَلَدَهُمَا أَسْيَاطًا وَأَخَذَ الْمَهْرَ فَجَعَلَهُ صَدَقَةً فِي سَبِيلِ اللهِ قَالَ: لَا أُجِيزُ مَهْرًا لَا أُجِيزُ نِكَاحَهُ، وَقَالَ لَا تَحِلُّ لَكَ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبید بن نضلہ (یا نضیلہ، داؤد نے اس بارے میں شک کیا ہے) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا تجھے علم تھا کہ تو عدت کے دوران شادی کر رہی ہے؟ اس نے کہا: نہیں (مجھے معلوم نہ تھا)۔ اس کے خاوند سے فرمایا: کیا تو جانتا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، مجھے بھی علم نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہیں معلوم ہوتا تو میں تم دونوں کو رجم کر دیتا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے کے ساتھ مارا اور اس کا حق مہر لے لیا اور اسے اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا مہر بھی جائز نہیں ہے اور اس کا نکاح بھی جائز نہیں ہے اور فرمایا: وہ عورت تیرے لیے ہمیشہ کے لیے حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15544
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَقَالَ: إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَإِنْ شَاءَتْ تَزَوَّجَهُ فَعَلَتْ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَقُولُ قَالَ الشَّيْخُ: وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ وَجَعَلَ لَهَا مَهْرَهَا وَجَعَلَهُمَا يَجْتَمِعَانِ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور اس کے لیے حق مہر مقرر کر دیا؛ کیونکہ اس کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا اور فرمایا: جب اس کی عدت ختم ہو جائے تو اگر وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے تو وہ کر لے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح ہی کہتے ہیں۔
اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا اور اس کے لیے حق مہر کو جائز قرار دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا بھی کر دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح ہی کہتے ہیں۔
اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا اور اس کے لیے حق مہر کو جائز قرار دے دیا اور ان دونوں کو اکٹھا بھی کر دیا۔
حدیث نمبر: 15545
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ فِي عِدَّتِهَا فَأَخَذَ مَهْرَهَا فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ وَعَاقَبَهُمَا " قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ هَكَذَا وَلَكِنْ هَذِهِ الْجَهَالَةَ مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ تَسْتَكْمِلُ بَقِيَّةَ الْعِدَّةِ مِنَ الْأَوَّلِ ثُمَّ تَسْتَقْبِلُ عِدَّةً أُخْرَى وَجَعَلَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَهْرَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا الْجَهَالِاتِ إِلَى السُّنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی سے روایت ہے کہ ایک عورت کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، جس نے دورانِ عدت نکاح کر لیا تھا۔ آپ نے اس کے حق مہر کو لیا اور بیت المال میں ڈال دیا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور فرمایا: یہ دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور یہ ان کی سزا ہے۔ شعبی کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اس طرح نہیں، یہ لوگوں کی جہالت ہے اور ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے گی۔ پھر وہ اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت مکمل کرے گی، پھر وہ دوسری عدت کی طرف متوجہ ہو گی اور علی رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے حق مہر مقرر کیا اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے۔ شعبی فرماتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تعریف کی، اس کی حد بیان کی، پھر فرمایا: اے لوگو! جہالتوں کو سنت کی طرف لوٹاؤ۔
حدیث نمبر: 15546
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ ⦗٧٢٦⦘ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فِي الصَّدَاقِ وَجَعَلَهُ لَهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حق مہر کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کیا اور اس کے لیے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے حق مہر مقرر کیا۔
حدیث نمبر: 15547
وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَشْعَثَ، بِإِسْنَادِهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ وَجَعَلَ لَهَا مَهْرَهَا وَجَعَلَهُمَا يَجْتَمِعَانِ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔