کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بیوہ کے لیے رہائش کا حق ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15506
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ مُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، نا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، نا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] " قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا أَوْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنُسِخَ مِنْهُ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح سے روایت ہے کہ عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس آیت نے اس کی عدت کو اس کے اہل کے پاس منسوخ کر دیا ہے۔ وہ عدت گزارے جہاں وہ چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ہے۔ عطاء نے کہا: اگر وہ چاہے کہ عدت اپنے اہل کے پاس گزارے یا اس جگہ جس میں رہنے کی اس کو وصیت کی گئی ہے اور اگر وہ چاہے تو نکل بھی سکتی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی بنا پر: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 240] ”اگر وہ نکلنا چاہیں تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے۔ اس میں جو وہ اپنے نفسوں کے بارے میں کرتی ہے“۔ عطاء نے کہا: پھر وراثت آئی اور اس نے رہائش کو منسوخ کر دیا، وہ عدت گزارے جہاں چاہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15506
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 15507
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، نا شَبَابَةُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] قَالَ: " كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهَا " فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ: " جَعَلَ اللهُ لَهَا تِسْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ} فِي الْعِدَّةِ كَمَا هِيَ وَاجِبَةٌ عَلَيْهَا، زَعَمَ ذَلِكَ مُجَاهِدٌ وَقَالَ عَطَاءُ عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثُمَّ نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهِ تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ فِي أَهْلِهِ أَوْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا سُكْنَى لَهَا ⦗٧١٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ رَوْحٍ عَنْ شِبْلٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ وَرْقَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح، مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں، یعنی عدت گزاریں۔“
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ﴾ [سورة البقرة: 240]
”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، اپنی بیویوں کے لیے ایک سال کے خرچے کی وصیت (کر جائیں کہ) ان کو نہ نکالیں، اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، جو وہ اپنے نفسوں کے سلسلے میں معروف طریقے سے کریں۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے نو ماہ اور بیس راتوں کی وصیت مقرر کی ہے، اگر وہ چاہے تو اپنی وصیت کی جگہ میں رہے اور اگر چاہے تو خروج کر جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] عدت کے بارے میں ہے جو اس پر واجب ہے، یہ مجاہد رحمہ اللہ کا گمان ہے۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، پھر اس آیت «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» نے اس کی عدت کو اس کے اہل کے ہاں گزارنا منسوخ کر دیا۔ وہ جہاں چاہتی ہو عدت گزارے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر وہ چاہے عدت گزارے اپنے اہل میں یا اپنی وصیت کی جگہ میں اور اگر چاہے تو خروج کر جائے، یعنی اپنے خاوند کے اہل سے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کو دلیل بناتے ہوئے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة البقرة: 240] الیٰ آخر الآیۃ۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وراثت آئی، اس نے رہائش کو منسوخ کر دیا، وہ عدت گزارے جہاں وہ چاہے اور اس کے لیے رہائش نہیں ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15507
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔5344»
حدیث نمبر: 15508
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يَرْحَلُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا لَا يَنْتَظِرُ بِهَا " وَعَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فِرَاسٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: نَقَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بَعْدَ قَتْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِسَبْعِ لَيَالٍ " وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي جَامِعِهِ، وَقَالَ لِأَنَّهَا كَانَتْ فِي دَارِ الْإِمَارَةِ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اس عورت کو کوچ کروا دیتے جس کا خاوند فوت ہو جاتا، وہ اس کو مہلت نہیں دیتے تھے اور ابن مہدی سے روایت ہے، وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں، وہ فراس سے، وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کے سات راتوں بعد منتقل کر دیا تھا اور اس کو سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اپنی جامع میں روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ اس لیے تھا کہ وہ دارالحکومت میں تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15508
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15509
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَحَجَّتْ أُخْتَهَا فِي عِدَّتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کو اس کی عدت میں حج کروایا۔
قاسم سے روایت ہے کہ اس وقت فتنے کا خوف تھا، یعنی جس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بہن کو حج کروایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15509
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15510
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " كَانَتْ تُخْرِجُ الْمَرْأَةَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا " قَالَ: فَأَبَى ذَلِكَ النَّاسُ إِلَّا خِلَافَهَا فَلَا نَأْخُذُ بِقَوْلِهَا وَنَدَعُ قَوْلَ النَّاسِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا عورت کو اس کی عدت میں ہی نکلوا دیا کرتی تھیں، اس کے خاوند کی وفات کی وجہ سے۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں: اس کا لوگوں نے انکار کیا مگر اس کے خلاف، ہم اس قول کو بھی نہیں لیتے اور لوگوں کے قول کو ہم ترک کرتے ہیں اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15510
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»