کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي جَدِّي، نا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا " أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَأَنْ تَغْتَسِلَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَتَسْتَدْفِرَ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّيَ " فَقِيلَ لِسُلَيْمَانَ: أَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا؟ فَقَالَ: إِنَّمَا نَقُولُ فِيمَا سَمِعْنَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا أَنَّهُمَا ذَكَرَا أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَفْتَتْ لَهَا وَاحْتَجَّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ وَزَعَمَ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ هَكَذَا، قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا حَدَّثَ سُفْيَانُ بِهَذَا قَطُّ إِنَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَدَعُ الصَّلَاةَ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ " أَوْ قَالَ: أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الشَّكُّ مِنْ أَيُّوبَ لَا يُدْرَى قَالَ هَذَا وَهَذَا، فَجَعَلَهُ هُوَ أَحَدَهُمَا عَلَى نَاحِيَةٍ مِمَّا يُرِيدُ وَلَيْسَ هَذَا بِصِدْقٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا یا ان کے لیے نبی ﷺ سے سوال کیا گیا، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ”اپنے «قُرُوءٍ» (حیض) کے ایام میں نماز چھوڑ دیں اور اس کے علاوہ دنوں میں غسل کریں، کپڑے کے ساتھ لنگوٹ باندھیں اور نماز پڑھیں۔“ سلیمان رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ کیا ان کا خاوند ان سے جماع کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: بے شک ہم اس کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہم نے سنا۔ اور اس کو اسی طرح عبدالوارث اور حماد بن زید رحمہما اللہ نے ایوب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے ذکر کیا ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے فتویٰ طلب کیا اور ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ رحمہ اللہ نے اسی حدیث کو دلیل بنایا ہے اور ان کا گمان یہ ہے کہ اس حدیث کو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ایوب رحمہ اللہ سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان نے اس کو کبھی بیان نہیں کیا۔
سفیان رحمہ اللہ ایوب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان دنوں اور راتوں کی تعداد میں نماز کو چھوڑ دو جن میں تو حائضہ ہوتی ہے“ یا کہا ”اپنے «قُرُوءٍ» کے دنوں میں“ (یہ شک ایوب کی طرف سے ہے، معلوم نہیں انہوں نے یہ کہا یا وہ)۔ تو انہوں نے (ابراہیم نے) ان دونوں میں سے ایک کو اپنی مرضی کی طرف کر لیا اور یہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15392
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ " فَأَمَرَهَا أَنْ " تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَأَيَّامَ حَيْضِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَدْفَرَتْ " كَذَا وَجَدْتُ وَالصَّوَابُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا أَوْ أَيَّامَ حَيْضِهَا بِالشَّكِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ، كَذَلِكَ كَمَا رَوَاهُ نَافِعٌ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَافِعٌ أَحْفَظُ عَنْ سُلَيْمَانَ مِنْ أَيُّوبَ وَهُوَ يَقُولُ: مِثْلُ أَحَدِ مَعْنَيَيْ أَيُّوبَ اللَّذَيْنِ رَوَاهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا اللَّفْظُ الَّذِي احْتَجُّوا بِهِ فِي أَحَادِيثَ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ الْحَيْضِ وَتِلْكَ الْأَحَادِيثُ فِي نَفْسِهَا مُخْتَلَفٌ فِيهَا فَبَعْضُ الرُّوَاةِ قَالَ: فِيهَا أَيَّامُ أَقْرَائِهَا وَبَعْضُهُمْ قَالَ: فِيهَا أَيَّامُ حَيْضِهَا أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ وَكُلُّ ذَلِكَ مِنْ جِهَةِ الرُّوَاةِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يُعَبِّرُ عَنْهُ بِمَا يَقَعُ لَهُ وَالْأَحَادِيثُ الصِّحَاحُ مُتَّفِقَةٌ عَلَى الْعِبَارَةِ عَنْهُ بِأَيَّامِ الْحَيْضِ دُونَ لَفْظِ الْأَقْرَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش مستحاضہ ہو گئی، اس کے لیے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، وہ تو رگ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے قروء یا اپنے حیض کے دنوں میں نماز کو چھوڑ دے۔ پھر وہ غسل کرے اور نماز پڑھے اور اگر خون کا غلبہ ہو تو لنگوٹ باندھ لے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جن سے انہوں نے دلیل لی ہے، ان احادیث میں مروی ہیں جنہیں ہم نے کتاب الحیض میں ذکر کیا ہے اور ان احادیث میں خود اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان میں «أَيَّامُ أَقْرَائِهَا» کہا ہے اور بعض نے «أَيَّامُ حَيْضِهَا» یا اس کے ہم معنی الفاظ کہے ہیں، اور یہ سب راویوں کی طرف سے ہے، ہر ایک نے اسے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، اور صحیح احادیث اسے «أَيَّامُ الْحَيْضِ» (حیض کے دنوں) سے تعبیر کرنے پر متفق ہیں نہ کہ «الْأَقْرَاءِ» کے لفظ سے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15393
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثُمَّ تَرَكَنِي حَتَّى رَدَدْتُ أَبِي وَوَضَعْتُ مَائِي وَخَلَعْتُ ثِيَابِي فَقَالَ: قَدْ رَاجَعْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ: مَا تَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: أَرَى أَنَّهُ " أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَتَحِلُّ لَهَا الصَّلَاةُ "، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، اس نے کہا: میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی، پھر مجھے چھوڑ دیا یہاں تک کہ میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور (غسل کے لیے) اپنا پانی رکھ لیا اور اپنے کپڑے اتارے، پھر اس نے کہا: میں نے تجھ سے رجوع کیا، میں نے تجھ سے رجوع کیا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا، اور وہ ان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے: آپ اس عورت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس کا خاوند اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے اور اس کے لیے نماز حلال ہو جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا بھی اس کے بارے میں یہی خیال ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15394
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے، ایک اور دو طلاقوں کی صورت میں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15395
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: أَرْسَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ رَاجَعَهَا حِينَ دَخَلَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ: " إِنِّي أَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَتَحِلُّ لَهَا الصَّلَاةُ " قَالَ: لَا أَعْلَمُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا أَخَذَ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی طرف قاصد بھیجا کہ وہ ان سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر جب وہ تیسرے حیض میں داخل ہوئی تو اس نے اس سے رجوع کر لیا۔ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ اس کا زیادہ حق رکھتا ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کرے اور اس کے لیے نماز پڑھنا حلال نہ ہو جائے۔ ابو عبیدہ فرماتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی کو اختیار کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15396
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، نا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَتَحِيضُ ثَلَاثَ حِيَضٍ فَيُرَاجِعُهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ، قَالَ: " هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر، عبداللہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر وہ حائضہ ہو گئی، جب وہ تیسرے حیض کو پہنچی تو اس نے اس سے رجوع کر لیا، اس کے غسل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں کہ وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15397
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ، ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ثَلَاثُ حِيَضٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہم کو حجاج رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی، فرماتے ہیں ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: تین قروء، اور ابن جریج رحمہ اللہ، عطاء الخراسانی رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «ثَلَاثُ حِيَضٍ» یعنی تین حیض (تین قروء سے مراد تین حیض)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15398
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ نا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: " الْأَقْرَاءُ الْحَيْضُ" عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ «الْقُرُوءُ» سے مراد اصحابِ محمد ﷺ کے ہاں حیض ہے، رہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول تو انہوں نے یہ قول کہ «الْقُرُوءُ» سے مراد طہر ہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے لیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15399
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
قَالَ: وَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ زَيْدٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، زید اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے قول کی طرح ہی فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15400
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ الْأَصْمَعِيُّ وَغَيْرُهُ يُقَالُ: قَدْ" أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا دَنَا حَيْضُهَا وَأَقْرَأَتْ إِذَا دَنَا طُهْرُهَا" قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَاصِلُ الْأَقْرَاءِ إِنَّمَا هِيَ وَقْتُ الشَّيْءِ إِذَا حَضَرَ قَالَ الْأَعْشَى يَمْدَحُ رَجُلًا بِغَزْوَةٍ غَزَاهَا:.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں علی بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصمعی رحمہ اللہ اور دوسروں نے کہا کہ «أَقْرَأَتِ الْمَرْأَةُ» اس وقت ہی کہا جاتا ہے جب حیض کا وقت قریب ہو اور اس وقت بھی کہا جاتا ہے جب طہر قریب ہو۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصل میں «أَقْرَأَ» کسی چیز کے وقت کا حاضر ہونا ہے۔ جیسے ایک شاعر ایک آدمی کی غزوہ میں تعریف کرتا ہے:
«مُوَرَّثَةً مَالاً وَفِي الذِّكْرِ رِفْعَةً لِمَا ضَاعَ فِيهَا مِنْ قُرُوءِ نِسَائِكَا»
”مال کی طلب و حصول اور نام کی بلندی میں اس سبب سے ضائع ہو گئے ان کی عورتوں کے قروء“، تو یہاں «قُرُوء» سے مراد طہر ہے کیونکہ عورتوں سے وطی طہر ہی میں ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15401