کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مدخول بہا عورت کی عدت کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء تک اپنے آپ کو روکے رکھیں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، ان علماء کا موقف کہ ”اقراء“ سے مراد طہر (پاکی) ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ ⦗٦٨١⦘ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں طلاق دے دی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر وہ اس کو روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر وہ حائضہ ہو، پھر پاک ہو، پھر اگر وہ چاہے تو اس کے بعد اس کو روکے رکھے اور اگر چاہے تو اس کو چھونے سے پہلے طلاق دے دے۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 15381
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرَاجِعْهَا " فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَقَالَ: " إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ يُمْسِكْ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ابوزبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ انہوں نے عبدالرحمن بن ایمن سے سنا کہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا اور ابوزبیر رحمہ اللہ سن رہے تھے، وہ فرماتے ہیں: آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دی؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں طلاق دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس سے رجوع کرے“، پس رسول اللہ ﷺ نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور فرمایا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو وہ اس کو طلاق دے دے یا اس کو روک لے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو عدت میں طلاق دو۔“
حدیث نمبر: 15382
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا انْتَقَلَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ حِينَ دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَتْ: صَدَقَ عُرْوَةُ وَقَدْ جَادَلَهَا فِي ذَلِكَ أُنَاسٌ وَقَالُوا: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: {ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: ٢٢٨] فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَتَدْرُونَ مَا الْأَقْرَاءُ؟ " إِنَّمَا الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ " قَالَا: وَأَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: مَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا مِنْ فُقَهَائِنَا إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ هَذَا يُرِيدُ الَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: صَدَقْتُمْ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْأَقْرَاءُ؟ الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما (عدت سے) منتقل ہوئیں جب وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میں نے یہ معاملہ عمرہ بنت عبدالرحمن سے ذکر کیا، وہ فرماتی ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا اور اس بارے میں لوگوں نے جھگڑا کیا اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [سورة البقرة: 228] ”تین قروء“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کیا تم جانتے ہو «الْأَقْرَاءُ» کیا ہے؟ «الْأَقْرَاءُ» سے مراد طہر ہے۔
حدیث نمبر: 15383
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ⦗٦٨٢⦘ الْأَحْمَسِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ «الْقُرُوءِ» سے مراد طہر ہیں۔
حدیث نمبر: 15384
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب طلاق شدہ عورت تیسرے حیض میں داخل ہو جائے تو وہ اسی سے بری ہو گئی۔
حدیث نمبر: 15385
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ الْأَحْوَصَ هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَكَانَ قَدْ طَلَّقَهَا وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدٌ: " أَنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا وَلَا تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا " وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب احوص شام میں فوت ہوئے، جبکہ ان کی بیوی تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو چکی تھی اور انہوں نے اسے طلاق دے دی تھی۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف (خط) لکھا، وہ اس کے بارے میں ان سے سوال کر رہے تھے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف لکھا کہ جب وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئی تو وہ اس سے بَرِی ہو گئی اور وہ اس سے بَرِی ہو گیا، نہ وہ اس کی وارث بن سکتی ہے اور نہ ہی وہ (خاوند) اس کا وارث بن سکتا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں «وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا» ”اور وہ اسے طلاق دے چکا تھا“ کے الفاظ ہیں، باقی اسی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 15386
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى زَيْدٍ فَكَتَبَ زَيْدٌ: " إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے لکھا: جب وہ طلاق شدہ تیسرے حیض میں داخل ہوئی تو وہ اس (خاوند) سے بری ہوگئی۔
حدیث نمبر: 15387
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا، وَلَا تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آدمی اپنی عورت کو طلاق دے اور وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو وہ اس سے بَرِی ہے اور وہ اس سے بَرِی ہے، اور نہ بیوی خاوند کی وارث بن سکتی ہے اور نہ ہی خاوند اس کا وارث بن سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 15388
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِذَا دَخَلَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَلَا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، جب عورت تیسرے حیض میں داخل ہو جائے تو اس (خاوند) کے لیے اس پر رجوع نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15389
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا نا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَيَّاطُ نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامِغَانِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: ⦗٦٨٣⦘ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " إِذَا قُطِرَتْ مِنَ الْمُطَلَّقَةِ قَطْرَةٌ مِنَ الدَّمِ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مطلقہ عورت سے تیسرے حیض کے خون کا قطرہ گر جائے تو اس کی عدت ختم ہو گئی۔
حدیث نمبر: 15390
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الْمَرْأَةِ إِذَا طُلِّقَتْ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَا: " قَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَحَلَّتْ ".
حافظ ثناء اللہ
فضیل بن ابی عبداللہ مہری کے مولیٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جب کسی عورت کو طلاق دے دی جائے اور وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ ان دونوں نے فرمایا: وہ بائنہ ہو گئی اور وہ حلال ہو گئی، (یعنی اس کی عدت ختم ہو گئی)۔
حدیث نمبر: 15391
قَالَ: وَنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ ذَلِكَ " إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْ زَوْجِهَا وَلَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا وَلَا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا " قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَاكَ الْأَمْرُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار رحمہم اللہ سے روایت ہے کہ وہ سب اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب مطلقہ عورت تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہو گئی۔ ان دونوں کے درمیان وراثت نہیں اور خاوند کے لیے اس پر رجوع کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر کے اہل علم کو اسی پر پایا ہے۔