کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گونگی لونڈی کو آزاد کرنے کا بیان جب وہ ایمان کا اشارہ کرے اور نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 15268
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ لَهَا: " أَيْنَ اللهُ؟ " فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا، فَقَالَ لَهَا: " فَمَنْ أَنَا؟ " فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ تَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیاہ رنگ کی لونڈی لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ذمہ مومن غلام کا آزاد کرنا ہے“، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے رسول اللہ ﷺ اور آسمان کی طرف اشارہ کیا، یعنی آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مومنہ ہے، اس کو آزاد کر دے۔“
حدیث نمبر: 15269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، نا أَبُو مَعْدَانَ الْمِنْقَرِيُّ يَعْنِي عَامِرَ بْنَ مَسْعُودٍ، نا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ عَنِّي هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَبُّكِ؟ " قَالَتْ: اللهُ رَبِّي قَالَ: " فَمَا دِينُكِ؟ " قَالَتْ: الْإِسْلَامُ قَالَ: " فَمَنْ أَنَا؟ " قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ قَالَ: " فَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ، وَتُقِرِّينَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَضَرَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهَا وقَالَ: " أَعْتِقِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عون بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے دادا رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس سیاہ لونڈی لے کر آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ذمے مومنہ گردن کا آزاد کرنا ہے، کیا یہ میری جانب سے کفایت کر جائے گی؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تیرا رب کون ہے؟“ کہنے لگی: میرا رب اللہ ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا دین کیا ہے؟“ اس نے کہا: اسلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پانچ نمازیں پڑھتی ہے اور تو اقرار کرتی ہے جو میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے اس کی کمر پر مارا اور فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“