حدیث نمبر: 15266
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يُجْزِيهِ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي الْقَتْلِ: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92]، فَكَانَ شَرْطُ اللهِ تَعَالَى فِي رَقَبَةِ الْقَتْلِ إِذَا كَانَ كَفَّارَةً كَالدَّلِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ لَا تَجْزِيَ رَقَبَةٌ فِي كَفَّارَةٍ إِلَّا مُؤْمِنَةً كَمَا شَرَطَ اللهُ الْعَدْلَ فِي الشَّهَادَةِ فِي مَوْضِعَيْنِ، وَأَطْلَقَ الشُّهُودَ فِي ثَلَاثَةِ مَوَاضِعَ، فَلَمَّا كَانَتْ شَهَادَةٌ كُلُّهَا اسْتَدْلَلْنَا عَلَى أَنَّ مَا أَطْلَقَ مِنَ الشَّهَادَاتِ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَى مِثْلِ مَعْنَى مَا شَرَطَ، قَالَ: وَإِنَّمَا رَدَّ اللهُ أَمْوَالَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ لَا عَلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: وَأَحَبُّ لَهُ أَنْ لَا يُعْتِقَ إِلَّا بَالِغَةً مُؤْمِنَةً وَإِنْ كَانَتْ أَعْجَمِيَّةً فَوَصَفَتِ الْإِسْلَامَ أَجْزَأَتْهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اسے (کفارۂ ظہار میں) دینِ اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر قائم گردن (غلام) کو آزاد کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ قتل (کے کفارے) کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ ”تو ایک مومن گردن (غلام) آزاد کرنا ہے۔“ [سورة النساء: 92]
تو قتل کے کفارے کی گردن میں اللہ تعالیٰ کی (ایمان کی) شرط، جبکہ وہ کفارہ ہو، گویا اس بات کی دلیل ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کہ کسی بھی کفارے میں مومن کے سوا کوئی گردن کافی نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دو مقامات پر گواہی میں عدالت کی شرط لگائی ہے اور تین مقامات پر گواہوں کو مطلق ذکر کیا ہے، تو جب یہ سب گواہیاں ہی ہیں تو ہم نے اس سے استدلال کیا کہ جن گواہیوں کو مطلق ذکر کیا گیا ہے وہ ان شاء اللہ اسی معنی پر ہیں جس کی شرط لگائی گئی ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اموال مسلمانوں ہی کو لوٹائے ہیں، مشرکین کو نہیں۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور میں اس کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ صرف بالغ مومن (لونڈی) ہی آزاد کرے، اور اگر وہ عجمی ہو اور اسلام (کے عقائد) بیان کر دے تو (اس کا آزاد کرنا) اسے کافی ہو جائے گا۔“
تو قتل کے کفارے کی گردن میں اللہ تعالیٰ کی (ایمان کی) شرط، جبکہ وہ کفارہ ہو، گویا اس بات کی دلیل ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کہ کسی بھی کفارے میں مومن کے سوا کوئی گردن کافی نہیں ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دو مقامات پر گواہی میں عدالت کی شرط لگائی ہے اور تین مقامات پر گواہوں کو مطلق ذکر کیا ہے، تو جب یہ سب گواہیاں ہی ہیں تو ہم نے اس سے استدلال کیا کہ جن گواہیوں کو مطلق ذکر کیا گیا ہے وہ ان شاء اللہ اسی معنی پر ہیں جس کی شرط لگائی گئی ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اموال مسلمانوں ہی کو لوٹائے ہیں، مشرکین کو نہیں۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور میں اس کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ صرف بالغ مومن (لونڈی) ہی آزاد کرے، اور اگر وہ عجمی ہو اور اسلام (کے عقائد) بیان کر دے تو (اس کا آزاد کرنا) اسے کافی ہو جائے گا۔“
حدیث نمبر: 15266
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ اللهُ؟ " فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، فَقَالَ: " مَنْ أَنَا؟ " قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ: " فَأَعْتِقْهَا " فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَشْيَاءُ كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ "، فَقَالَ عُمَرُ: وَكُنَّا نَتَطَيَّرُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلَا يَضُرَّنَّكُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: اسْمُ الرَّجُلِ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ، كَذَا رَوَى الزُّهْرِيُّ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ مُجَوَّدًا فَقَالَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ: " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حدیث نمبر: 15267
حَدَّثَنَاه أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، نا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَهُ ⦗٦٣٧⦘ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ فِي الْكُهَّانِ وَالطِّيَرَةِ وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ فِي الْكُهَّانِ وَالطِّيَرَةِ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ اس حدیث کے آخر میں کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کو آزاد کر دے یہ مومنہ ہے۔“