کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو چار ماہ سے کم مدت کے لیے اپنی بیوی سے ہم بستری نہ کرنے کی قسم کھائے۔
حدیث نمبر: 15236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، نا الْأُوَيْسِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: آلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ آلَيْتَ شَهْرًا قَالَ: فَقَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلا کیا اور آپ ﷺ کا پاؤں ٹوٹ گیا تو آپ ﷺ نے ٢٩ راتیں بالا خانے میں قیام کیا، پھر نیچے آئے۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے تو ایک مہینہ کی قسم کھائی تھی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہینہ کبھی ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 15237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، نا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَامِرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ إِيلَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ السَّنَةُ وَالسَّنَتَيْنِ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَوَقَّتَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ كَانَ إِيلَاؤُهُ " وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ " فَمَنْ كَانَ إِيلَاؤُهُ أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَلَيْسَ بِإِيلَاءٍ " قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: وَإِنْ آلَى مِنْهَا وَهِيَ فِي بَيْتِ أَهْلِهَا قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا فَلَيْسَ بِإِيلَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ دورِ جاہلیت میں ایلا ایک یا دو سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتا تھا، لیکن اللہ رب العزت نے اس کا وقت چار ماہ مقرر فرما دیا، اگر کوئی ایلا کرنا چاہے۔ یونس کی روایت میں ہے کہ جو کوئی چار ماہ سے کم ایلا کرنا چاہتا ہے تو یہ ایلا نہ ہوگا۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر خاوند نے ایلا کیا اور بیوی ابھی اپنے والدین کے گھر تھی، رخصتی بھی نہ ہوئی ہو تو یہ ایلا نہ ہوگا۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر خاوند نے ایلا کیا اور بیوی ابھی اپنے والدین کے گھر تھی، رخصتی بھی نہ ہوئی ہو تو یہ ایلا نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 15238
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي الْإِيلَاءِ " أَنْ يَحْلِفَ أَنْ لَا يَمَسَّهَا أَبَدًا أَوْ سِتَّةَ أَشْهُرٍ أَوْ أَكْثَرَ أَوْ مَا زَادَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے «الْإِيلَاءُ» ”ایلاء“ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ خاوند جماع نہ کرنے کی قسم اٹھائے ہمیشہ کے لیے، چھ ماہ یا زیادہ یا چار ماہ سے زیادہ یا اسی طرح۔