کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جو بیوی کو اس کے ذمے کسی حق کی ادائیگی نہ کرنے پر مارے، پھر اس سے خلع کر لے۔
حدیث نمبر: 14857
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ تَزَوَّجَتْ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ فَأَصْدَقَهَا حَدِيقَتَيْنِ لَهُ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا اخْتِلَافٌ فَضَرَبَهَا حَتَّى بَلَغَ أَنْ كَسَرَ يَدَهَا فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَجْرِ فَوَقَفَتْ لَهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ قَالَ: " وَمَنْ أَنْتِ؟ " قَالَتْ: حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَالَ: " مَا شَأْنُكِ تَرِبَتْ يَدَاكِ؟ " قَالَتْ: ضَرَبَنِي فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَذَكَرَ ثَابِتُ مَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاذَا أَعْطَيْتَهَا؟ " قَالَ: قِطْعَتَيْنِ مِنْ نَخْلٍ أَوْ حَدِيقَتَيْنِ قَالَ: " فَهَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ بَعْضَ مَالِكَ وَتَتْرُكَ لَهَا بَعْضَهُ؟ " قَالَ: هَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، فَأَخَذَ إِحْدَاهُمَا فَفَارَقَهَا ثُمَّ تَزَوَّجَهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الشَّامِ فَتُوُفِّيَتْ هُنَالِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرہ رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا نے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما سے شادی کی تو انہوں نے دو باغ حق مہر میں دیے۔ ان کے درمیان اختلاف تھا جس کی بنا پر ثابت رضی اللہ عنہ نے مار کر حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ توڑ ڈالا۔ وہ فجر کے وقت آپ ﷺ کے دروازے پر آئیں۔ جب آپ ﷺ گھر سے نکلے تو کہنے لگیں: یہ مقامِ پناہ ہے ثابت بن قیس سے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ کہتی ہیں: حبیبہ بنت سہل۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا معاملہ ہے؟“ کہتی ہیں: اس نے مجھے مارا ہے، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہما کو نبی ﷺ نے بلایا تو ثابت رضی اللہ عنہ نے آپس کا معاملہ ذکر کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے اسے کیا دیا ہے؟“ تو ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: دو باغ کھجور کے یا دو باغ ہی کہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ مال لے لو اور کچھ چھوڑ دو۔“ تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ درست ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو اس نے ایک باغ لے لیا اور ایک چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اس سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے شادی کی جو شام گئے تو وہاں فوت ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14857
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»