کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: غیرت اور انصاف کے معاملے میں مرد کا اپنی بیٹی کی طرف سے دفاع کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يَنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، إِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنو مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہتے ہیں۔ میں ان کو اجازت نہیں دوں گا، میں اجازت نہیں دوں گا، میں اجازت نہیں دوں گا؛ لیکن اگر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں۔ کیونکہ وہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے پریشان کیا اس نے مجھے پریشان کیا، جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14798
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه 99»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا أَبُو الْوَلِيدِ، نا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَقُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
لیث اسی حدیث کے ہم معنیٰ ذکر کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ ”جس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان کیا اس نے مجھے پریشان کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14799
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَوِيُّ، نا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، نا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ نا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَأَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا وَإِنَّهُ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللهِ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا " فَتَرَكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْخِطْبَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيِّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، ⦗٥٠٣⦘ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ الْمِسْوَرِ، فَزَادَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَّى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا.
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا، حالانکہ ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ آپ کی قوم کے لوگ باتیں کرتے ہیں کہ آپ بیٹیوں کی وجہ سے غصے نہیں ہوتے، یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ دے رہے تھے تو میں نے آپ ﷺ سے سنا: ”میں نے ابو العاص کا نکاح کیا اس نے مجھے سچ بیان کیا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد ﷺ میرا ٹکڑا ہیں اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کو آزمائش میں ڈالیں۔ اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی بھی ایک شخص کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں۔“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کو چھوڑ دیا۔
(ب) مسور رضی اللہ عنہ نے کچھ زائد الفاظ بیان کیے ہیں کہ ”اس نے مجھ سے سچ بولا اور اپنے وعدے کو پورا کیا، لیکن میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے والا نہیں ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14800
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»