السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ذب الرجل عن ابنته في الغيرة والإنصاف باب: غیرت اور انصاف کے معاملے میں مرد کا اپنی بیٹی کی طرف سے دفاع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14799
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، نا أَبُو الْوَلِيدِ، نا اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَقُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
لیث اسی حدیث کے ہم معنیٰ ذکر کرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ ”جس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان کیا اس نے مجھے پریشان کیا۔“