کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو وہ چیز ظاہر کرے جو اسے نہیں ملی، اور سوکن پر فخر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14794
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ إِمْلَاءً وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّاذْيَاخِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي جَارَةً فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُتَشَبِّعَ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”میری ہمسائی ہے، کیا میرے اوپر گناہ تو نہ ہوگا کہ میں اپنے خاوند سے نہ ملنے والی اشیاء کا اظہار کروں؟“ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی چیز کا اظہار کرنے والی جو اسے دی نہیں گئی، ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والی۔“
حدیث نمبر: 14795
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَقُولَ أَعْطَانِي زَوْجِي وَلَمْ يُعْطِنِي إِنَّ عَلَيَّ ضَرَّةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: کیا میرے لیے یہ درست ہے کہ میں کہوں کہ میرے خاوند نے فلاں چیز مجھے دی ہے، حالانکہ اس نے مجھے کچھ بھی نہیں دیا ہوتا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی چیز کا اظہار کرنا جو دی نہیں گئی جھوٹ کے دو کپڑے پہننے کی مانند ہے۔“