کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفر پیش آنے کی صورت میں عورتوں (بیویوں) کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللهُ مِنْهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا، وَبَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتُ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ ⦗٤٩٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا زَعَمُوا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ قَالَتْ: فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تہمت لگانے والوں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا، پھر اللہ رب العزت نے ان کو بری کر دیا؛ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا جو ایک دوسرے سے بڑھ کر یاد رکھنے والے تھے اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی حدیث کو یاد رکھا جس نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، کیونکہ ان کی حدیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔ ان کا بیان تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ ”رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا وہ آپ ﷺ کے ساتھ جاتیں۔“ وہ فرماتی ہیں کہ ”آپ ﷺ نے کسی غزوہ میں جاتے ہوئے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا، چنانچہ میں آپ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئی اور (اس وقت) پردے کی آیات نازل ہو چکی تھیں۔“
حدیث نمبر: 14769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَخَرَجَتَا جَمِيعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَارَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَتَحَدَّثُ مَعَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، قَالَتْ: بَلَى فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ فَسَلَّمَ وَسَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَيْهَا فِي الْإِذْخِرِ وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي وَرَسُولُكَ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نکلتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک مرتبہ قرعہ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکلا تو وہ دونوں اکٹھی نکلیں اور رسول اللہ ﷺ جب رات کے وقت چلتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے رہتے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہنے لگیں: کیا آج رات آپ میرے اونٹ پر سوار نہیں ہوتیں اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ہوجاتی ہوں تو آپ دیکھیں گی اور میں دیکھوں گی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کیوں نہیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس آئے، حالانکہ اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ ﷺ سلام کہہ کر ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ انھوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو گم پایا۔ جب پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا پاؤں گھاس میں رکھ دیا اور کہنے لگیں: اے میرے رب! میرے اوپر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے، میں تیرے رسول ﷺ سے کوئی بات کہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔