کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس صورت حال کا بیان جس میں عورتوں (بیویوں کی باری) کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14756
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، نا الْقَعْنَبِيُّ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهَا: " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ ثُمَّ دُرْتُ "، قَالَتْ: ثَلِّثْ وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: " ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ "، قَالَتْ: ثَلِّثْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے ہاں صبح کی تو فرمایا: ”تو اپنے گھر والوں کے نزدیک حقیر نہیں، اگر تو چاہے تو میں تیرے پاس سات دن گزاروں گا اور دوسری عورتوں کے پاس بھی، اور اگر تو چاہے تو تین دن کے بعد میں گھوم جاؤں گا۔“ وہ فرماتی ہیں: ”تین دن کریں“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”میں تیرے پاس تین دن گزاروں گا، پھر گھوم جاؤں گا۔“ وہ فرمانے لگیں: ”تین دن۔“
حدیث نمبر: 14757
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، نا الْقَعْنَبِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ ⦗٤٩١⦘ فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَخَذَتْ بِثَوْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتِ زِدْتُكِ وَحَاسَبْتُكِ بِهِ، لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ هَكَذَا رَوَيَاهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ مُرْسَلًا، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے پاس گئے اور جب جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کا کپڑا پکڑ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر آپ چاہیں تو میں زیادہ ایام گزار دیتا ہوں اور تیرا ہی حساب رکھوں گا، کنواری کے لیے سات دن اور بیوہ کے لیے تین دن۔“
حدیث نمبر: 14758
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، نا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا مُسَدَّدٌ، ح قَالَ: وَأنا ابْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح قَالَ: وَأنا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا الثَّوْرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ إِنَّهُ: " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ مُجَوَّدَ الْإِسْنَادِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ يَحْيَى، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ شادی کے بعد ان کے پاس تین دن ٹھہرے اور فرمایا: ”تو اپنے گھر والوں کے نزدیک حقیر نہیں ہے۔ اگر تو چاہے تو سات دن پورے کروں گا اور دوسری عورتوں کے لیے بھی سات دن دوں گا۔“
حدیث نمبر: 14759
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى قَالَا: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، نا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ نا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ قَالَ: " إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " هَكَذَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی اور اس میں مختلف اشیاء ذکر فرمائیں، فرمایا: ”اگر تو چاہے تو میں تیرے پاس سات دن ٹھہرتا ہوں اور باقی عورتوں کے پاس بھی سات دن ہی ٹھہروں گا۔“
حدیث نمبر: 14760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، نا رَوْحٌ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ، نا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ⦗٤٩٢⦘ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُخْبِرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا، وَيَقُولُونَ: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ، حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمْ فِي الْحَجِّ فَقَالُوا: تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ، فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَدَّقُوهَا فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَقُلْتُ: مَا مِثْلِي تُنْكَحُ، أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، فَقَالَ: " أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ " فَتَزَوَّجَهَا فَجَعَلَ يَأْتِيهَا فَيَقُولُ: " كَيْفَ زُنَابُ؟ أَيْنَ زُنَابُ؟ " فَجَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَاخْتَلَجَهَا فَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَيْنَ زُنَابُ؟ " فَقَالَتْ قُرَيْبَةُ ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا: أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ "، قَالَتْ: فَوَضَعْتُ ثِقَالِي، وَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ وَكَانَتْ فِي جَرٍّ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: فِي جَرِيبٍ - وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ فَبَاتَ ثُمَّ أَصْبَحَ فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ: " إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ أُسَبِّعْ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ جب وہ مدینہ آئیں تو (لوگوں کو) بتایا گیا کہ وہ ابو امیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں تو انھوں نے اس کی تکذیب کر دی۔ وہ کہنے لگے: کیا اس نے اجنبی ہو کر تکذیب کر دی؟ یہاں تک کہ ان کے کچھ لوگ حج کرنے آئے تو انھوں نے کہا کہ تم اپنے اہل کو لکھو، میں نے خط لکھ دیا۔ جب وہ مدینہ آئے تو انھوں نے اس کی تصدیق کر دی، وہ عزت و مرتبہ کے اعتبار سے اور بڑھ گئیں۔ فرماتی ہیں: جب میں نے بچی کو جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے عرض کی: مجھ جیسی سے نکاح نہیں کیا جاتا، میں تو اپنے عیال کے بارے میں بڑی غیرت مند ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں آپ سے عمر میں بڑا ہوں، اللہ اس کو ختم فرما دیں گے اور رہے عیال تو یہ اللہ اور رسول کے لیے ہیں۔“ آپ ﷺ نے شادی کر لی۔ جب ان کے پاس آتے تو فرماتے: ”زینب کیسی ہے؟ زینب کہاں ہے؟“ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما آئے تو وہ (بچی) دودھ پی رہی تھی، کہنے لگے: اس نے رسول اللہ ﷺ کو روکا ہوا ہے۔ وہ اس کو دودھ پلا رہی تھیں تو نبی کریم ﷺ آئے اور پوچھا: ”زینب کہاں ہے؟“ تو قریبہ بنت ابی امیہ کہنے لگی، جو اس کے قریب کھڑی تھی کہ اس کو عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہما) نے لے لیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں رات کے وقت آؤں گا۔“ کہنے لگی: میں نے اپنا اناج رکھ لیا ہے اور میں نے جو کے دانے نکال لیے ہیں جو ایک مٹکے میں تھے اور ابو عبداللہ کی روایت میں ہے، ایک تھیلی میں سے میں نے چربی نکال لی ہے اور میں نے اس کو نچوڑ لیا ہے، آپ ﷺ نے رات گزار کر صبح کی تو فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کے نزدیک معزز ہو، اگر تم چاہو تو میں سات دن تیرے پاس گزارتا ہوں۔ اگر میں نے سات دن گزارے تو دوسری عورتوں کے پاس بھی سات دن ہی گزاروں گا۔“
حدیث نمبر: 14761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا " وَلَوْ قُلْتَ إِنَّهُ رَفَعَهُ صَدَقْتَ وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب آپ کنواری سے بیوہ کی موجودگی میں شادی کریں تو اس کے ہاں سات دن قیام کرنا اور جب بیوہ سے شادی کرو کنواری کی موجودگی میں تو اس کے ہاں تین دن قیام کرو۔“ اگر میں کہوں کہ وہ اسے مرفوع بیان کرتے ہیں تو میں سچ کہہ رہا ہوں، کیونکہ وہ اسے سنت کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14762
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، نا إِسْحَاقُ هُوَ الدَّبَرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، نا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا " قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ قُلْتَ إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتَ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَوْ شِئْتَ قُلْتَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ سُفْيَانَ، وَأَشَارَ إِلَى رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص بیوہ کی موجودگی میں کنواری سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن قیام کرے، اور جب کنواری کی موجودگی میں بیوہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن قیام کرے۔“ خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر میں کہوں کہ انہوں نے یہ حدیث مرفوعاً بیان کی ہے تو بھی سچ ہی ہو گا۔
حدیث نمبر: 14763
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، نا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری لڑکی سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات راتیں گزارے اور جب بیوہ سے نکاح کرلے کنواری کے ہوتے ہوئے تو اس کے ہاں تین راتیں گزارے۔“
حدیث نمبر: 14764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ مِنْهَالٍ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لِلْبِكْرِ سَبْعَةُ أَيَّامٍ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کنواری کے لیے سات دن اور بیوہ کے لیے تین دن ہیں۔
حدیث نمبر: 14765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ بِكْرًا فَلَهَا سَبْعٌ ثُمَّ يَقْسِمُ فَإِذَا تَزَوَّجَهَا ثَيِّبًا فَلَهَا ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ثُمَّ يَقْسِمُ ".
حافظ ثناء اللہ
حمید سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب مرد کسی کنواری عورت سے شادی کرلے تو اس کے پاس سات دن قیام کرے، پھر باری تقسیم کرے اور جب بیوہ عورت سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن قیام کرے، پھر باری تقسیم کرے۔“
حدیث نمبر: 14766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " يُقِيمُ عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا ثُمَّ يَقْسِمُ وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يَقْسِمُ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کنواری کے پاس سات دن قیام کرتے، پھر باری تقسیم کرتے اور اگر عورت بیوہ ہوتی تو اس کے پاس تین دن قیام کرنے کے بعد باری تقسیم کر دیتےے۔
حدیث نمبر: 14767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، نا أَنَسٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى هُوَ ابْنُ مَنْصُورٍ نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ بِصَفِيَّةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا زَادَ عُثْمَانُ وَكَانَتْ ثَيِّبًا.
حافظ ثناء اللہ
حمید حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے تو ان کے پاس تین دن قیام کیا، عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ بیوہ تھیں۔