کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس آزاد شخص کا بیان جو لونڈی کے بعد آزاد عورت سے نکاح کرے تو وہ آزاد عورت کے لیے دو دن اور لونڈی کے لیے ایک دن باری مقرر کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا نُكِحَتِ الْحُرَّةُ عَلَى الْأَمَةِ فَلِهَذِهِ الثُّلُثَانِ وَلِهَذِهِ الثُّلُثُ ".
حافظ ثناء اللہ
عباد بن عبداللہ اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کیا جائے تو اس کے لیے دو دن مقرر کیے جائیں، جبکہ لونڈی کو ایک دن دیا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو سَعِيدٍ، نا سَعْدَانُ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی
وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ " مِنَ السُّنَّةِ أَنَّ الْحُرَّةَ إِذَا أَقَامَتْ عَلَى ضِرَارٍ فَلَهَا يَوْمَانِ وَلِلْأَمَةِ يَوْمٌ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سلمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سنت یہ ہے کہ جب آزاد عورت سے شادی کی جائے تو باری میں اس کے لیے دو دن مقرر کیے جائیں گے اور لونڈی کے لیے ایک دن۔“