أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا: نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّورَةِ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ: إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے تصویر والے گھر داخل نہیں ہوتے۔“ بسر کہتے ہیں کہ پھر زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی بیمار پرسی کی۔ گھر کے دروازے کے پردے پر تصاویر تھیں تو میں نے عبید اللہ خولانی رحمہ اللہ، جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ تھے، کہا: کیا پہلے دن ہمیں زید رضی اللہ عنہ نے تصاویر کے بارے میں خبر نہ دی تھی؟ تو عبید اللہ رحمہ اللہ فرمانے لگے: کیا آپ نے اس وقت نہ سنا تھا، جب انہوں نے کہا کہ ”سوائے اس نقش کے جو کپڑے میں ہو۔“
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ وَمَعَ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عُبَيْدُ اللهِ الْخَوْلَانِيُّ الَّذِي كَانَ فِي حِجْرِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمَا زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ " قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدٌ فَعُدْنَاهُ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا؟ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي الثَّوْبِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: بَلَى، فَذَكَرَ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے تصاویر والے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔“ بشر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو ہم نے ان کی تیمارداری کی۔ ان کے گھر تصاویر والا پردہ تھا تو میں نے عبید اللہ رحمہ اللہ سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں بیان نہیں کیا تھا؟ فرمانے لگے: انہوں نے یہ بھی کہا تھا: سوائے اس نقش کے جو کپڑے میں ہو، کیا آپ نے سنا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ، ح وَأنا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ ⦗٤٤٣⦘ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ: فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: لِمَ تَنْزِعُهُ؟ قَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرُ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ سَهْلٌ: أَلَمْ يَقُلْ " إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي الثَّوْبِ " قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي قَوْلُهُ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ صُورَةَ غَيْرِ ذَوَاتِ الْأَرْوَاحِ، وَهُوَ فِي حَدِيثِ أَبِي طَلْحَةَ غَيْرُ مُبَيَّنٍ، وَفِي الْأَخْبَارِ قَبْلَ هَذَا الْبَابِ مُبَيَّنٌ فَالْوَاجِبُ حَمْلُ مَا رَوَيْنَا فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى مَا رَوَيْنَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کے لیے آئے تو ان کے پاس سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کسی انسان کو بلایا، اس نے ان کے نیچے سے چٹائی کھینچ لی۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ اسے کیوں نکال رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اس میں تصاویر ہیں، کیا آپ جانتے نہیں جو رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں فرمایا؟“ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کیا آپ ﷺ نے یہ نہ فرمایا تھا: سوائے اس کے جو کپڑے میں نقش ہو؟“ فرمانے لگے: ”کیوں نہیں، لیکن یہ میرے دل کے لیے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ «إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ» سے مراد ایسی تصاویر ہیں جو روح والی اشیاء کی نہ ہوں۔