کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے نفلی روزہ ہونے کی صورت میں روزہ توڑ دینے کو مستحب قرار دیا۔
حدیث نمبر: 14537
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: صَنَعَ رَجُلٌ طَعَامًا وَدَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخُوكَ صَنَعَ طَعَامًا وَدَعَاكَ أَفْطِرْ وَاقْضِ يَوْمًا مَكَانَهُ " وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنِ ابْنِ أَبِي حُمَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ: إِنْ أَحْبَبْتَ يَعْنِي الْقَضَاءَ. وَابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ وَيُقَالُ حَمَّادٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ بِمَعْنَاهُ عَنْ أَبِي أُوَيْسٍ الْمَدَنِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ صَنَعَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصِّيَامِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کھانا پکایا تو نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو دعوت دی، تو ایک شخص نے کہا: میں روزے سے ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے بھائی نے کھانا پکایا ہے، روزہ چھوڑ اور اس کی جگہ کسی دوسرے دن روزہ رکھ لینا۔“
(ب) ابن ابی فدیک، حضرت ابن ابی حمید سے نقل فرماتے ہیں: اگر آپ قضا کو پسند کریں۔
(ج) محمد بن منکدر، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا پکایا تھا۔
(ب) ابن ابی فدیک، حضرت ابن ابی حمید سے نقل فرماتے ہیں: اگر آپ قضا کو پسند کریں۔
(ج) محمد بن منکدر، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا پکایا تھا۔
حدیث نمبر: 14538
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عُمَيْرٍ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنْ بِلَالِ بْنِ كَعْبٍ الْعَكِّيِّ قَالَ: زُرْنَا يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ الْبَكْرِيَّ مِنْ عَسْقَلَانَ إِلَى سَنَاجِيَةَ أَنَا وَابْنُ قُرَيْرٍ وَابْنُ أَدْهَمَ وَمُوسَى بْنُ يَسَارٍ فَأَتَانَا بِطَعَامٍ فَأَمْسَكَ مُوسَى يَدَهُ، فَقَالَ لَهُ يَحْيَى: " كُلْ فَقَدْ أَمَّنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ عِشْرِينَ سَنَةً يُكْنَى بِأَبِي قِرْصَافَةَ فَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا فَوُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَوْلَمْتُ عَلَيْهِ " فَدَعَوْتُهُ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَصُومُ فِيهِ فَأَفْطَرَ " قَالَ: فَمَدَّ مُوسَى يَدَهُ فَأَكَلَ، وَقَامَ ابْنُ أَدْهَمَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَكْنُسُهُ بِرِدَائِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن حسان بکری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور ابن قریر، ابن ادہم اور موسیٰ بن یسار تھے، ہمارے پاس کھانا لایا گیا تو موسیٰ بن یسار نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ یحییٰ نے کہا: کھاؤ۔ ابو قرصافہ رضی اللہ عنہ جو صحابی تھے انہوں نے بیس برس اس مسجد میں ہماری امامت کروائی، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو میں نے دعوت دی تو وہ اس دن روزے سے تھے۔ انہوں نے افطار کر دیا، کہتے ہیں: تو موسیٰ نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور کھایا اور ابن ادہم مسجد کو اپنی چادر سے صاف کر رہے تھے۔