قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ} [المؤمنون: 6] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَلَا يَحِلُّ الْعَمَلُ بِالذَّكَرِ إِلَّا فِي زَوْجَةٍ أَوْ مِلْكِ يَمِينٍ فَلَا يَحِلُّ الِاسْتِمْنَاءُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ﴾ ”اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، سوائے اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے، کیونکہ (ان کے معاملے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں، پھر جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔“ [سورة المؤمنون: 5-7]“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو شرمگاہ کا استعمال بیوی یا لونڈی کے سوا کہیں حلال نہیں، لہٰذا استمنا (مشت زنی) حلال نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو شرمگاہ کا استعمال بیوی یا لونڈی کے سوا کہیں حلال نہیں، لہٰذا استمنا (مشت زنی) حلال نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْخَضْخَضَةِ قَالَ: " نِكَاحُ الْأَمَةِ خَيْرٌ مِنْهُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنَ الزِّنَا "، هَذَا مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے خضخضہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: لونڈی سے نکاح اس سے بہتر ہے اور وہ زنا سے بہتر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَجْلَحُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ غُلَامًا أَتَاهُ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَقُومُونَ وَالْغُلَامُ جَالِسٌ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: قُمْ يَا غُلَامُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: دَعُوهُ شَيْءٌ مَا أَجْلَسَهُ، فَلَمَّا خَلَا قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي غُلَامٌ شَابٌّ أَجِدُ غِلْمَةً شَدِيدَةً فَأَدْلُكُ ذَكَرِي حَتَّى أُنْزِلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " خَيْرٌ مِنَ الزِّنَا، وَنِكَاحُ الْأَمَةِ خَيْرٌ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک غلام ان کے پاس آیا، لوگ جانے لگے تو وہ بیٹھا رہا، تو کچھ لوگوں نے کہا: اے غلام! جاؤ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اس کو چھوڑ دو، اس کو کسی چیز نے بٹھا رکھا ہے۔ جب لوگ چلے گئے تو غلام کہنے لگا: اے ابن عباس! میں نوجوان غلام ہوں، میں شدید قسم کا جوش پاتا ہوں، میں اپنے ذکر کو ملتا رہا یہاں تک کہ انزال ہو گیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ زنا سے بہتر ہے اور لونڈی سے نکاح اس سے بہتر ہے۔