کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں منگنی (پیغامِ نکاح) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دینے کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: 14015
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: 235] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ ”اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (عدت والی) عورتوں کو اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو۔“ [سورة البقرة: 235] (الآیة)
حدیث نمبر: 14015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ " أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَالَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ " وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي " قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: " انْكِحِي أُسَامَةَ " فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتُبِطْتُ بِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: لَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ.
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ غائب تھے۔ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے وکیل نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو کچھ جو دیے جن کی وجہ سے وہ ناراض ہو گئیں تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے ذمہ تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آکر نبی کریم ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے“ اور فرمایا: ”تو ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر عدت گزار لے۔“ پھر فرمایا: ”وہاں میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس عورت کے پاس آنا جانا رہتا ہے، آپ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لیں، وہ نابینا صحابی ہیں، کبھی آپ کا کپڑا اتر بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، جب عدت گزر جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ جب عدت گزر گئی تو میں نے بتایا کہ مجھے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں رکھتا اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، آپ اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیں۔“ کہتی ہیں: میں نے اس کو ناپسند کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ کہتی ہیں: میں نے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈال دی اور میں رشک کی جانے لگی۔
حدیث نمبر: 14016
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَجْمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَذَكَرَ فِيهِ اللَّفْظَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو پیغام دیا کہ ”اپنے نفس کے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا۔“
(ب) حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے نفس کے بارے میں ہم سے سبقت نہ کرنا۔“
(ب) حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے نفس کے بارے میں ہم سے سبقت نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 14017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَنْظَلَةَ الْغَسِيلُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي سَكِينَةُ بِنْتُ حَنْظَلَةَ، وَكَانَتْ بِقِبَا تَحْتَ ابْنِ عَمٍّ لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَنَا فِي عِدَّتِي، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتِ يَا بِنْتَ حَنْظَلَةَ؟ فَقُلْتُ: بِخَيْرٍ وَجَعَلَكَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَقَالَ: أَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتِ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَابَتِي مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحَقِّي فِي ⦗٢٨٩⦘ الْإِسْلَامِ وَشَرَفِي فِي الْعَرَبِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا جَعْفَرٍ، أَنْتَ رَجُلٌ يُؤْخَذُ مِنْكَ وَيُرْوَى عَنْكَ تَخْطُبُنِي فِي عِدَّتِي؟ فَقَالَ: مَا فَعَلْنَا إِنَّمَا أَخْبَرْتُكِ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ، وَتَأَيَّمَتْ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّهَا، فَلَمْ يَزَلْ يُذَكِّرُهَا بِمَنْزِلَتِهِ مِنَ اللهِ تَعَالَى حَتَّى أَثَّرَ الْحَصِيرُ فِي كَفِّهِ مِنْ شِدَّةِ مَا كَانَ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ، فَمَا كَانَتْ تِلْكَ خِطْبَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن حنظلہ رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سکینہ بنت حنظلہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں جو قباء میں اپنے چچا کے بیٹے کے نکاح میں تھیں، وہ فوت ہوگئے، کہتی ہیں کہ ابو جعفر محمد بن علی رحمہ اللہ عدت کے اندر میرے پاس آئے، سلام کہا اور پوچھنے لگے: ”اے بنت حنظلہ! کیسی صبح کی؟“ میں نے کہا: ”بہتر، اللہ نے اس میں بہتری رکھی۔“ کہنے لگے: ”میری قرابت رسول اللہ ﷺ اور علی رضی اللہ عنہ سے ہے اور میرا حق اسلام میں ہے اور عرب میں میرا مقام ہے۔“ میں نے کہا، یعنی سکینہ بنت حنظلہ رضی اللہ عنہما نے: ”اے ابو جعفر! اللہ آپ کو معاف کرے، آپ ایسے آدمی ہیں جن سے لیا جاتا ہے“ اور ایک روایت میں ہے کہ (انہوں نے پوچھا): ”کیا آپ کی جانب سے میری عدت میں پیغامِ نکاح ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے تو صرف رسول اللہ ﷺ سے اپنی قرابت داری کا تذکرہ کیا ہے،“ پھر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سلمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ مخزومیہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جو ان کے چچا کا بیٹا تھا، آپ ﷺ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ کے ہاں ان کے مرتبہ کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ چٹائی کے نشانات ان کی ہتھیلی پر ظاہر ہوگئے، ”یہ پیغامِ نکاح تو نہ تھا۔“
حدیث نمبر: 14018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: " التَّعْرِيضُ، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: وَالتَّعْرِيضُ مَا لَمْ يُنْصَبْ لِلْخِطْبَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] ”اور تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے جو تم عورتوں کے نکاح کے بارے میں اشارۃً بات کہو“ اور تعریض خطبہ کے لیے ہی نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 14019
أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥] " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں، میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں“۔
(ب) مجاہد رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے «فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں اور میری چاہت ہے کہ مجھے نیک بیوی مل جائے“۔
(ب) مجاہد رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے «فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں اور میری چاہت ہے کہ مجھے نیک بیوی مل جائے“۔
حدیث نمبر: 14020
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥]، " أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلْمَرْأَةِ وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا: إِنَّكِ عَلَيَّ لَكَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا وَرِزْقًا وَنَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اللہ کے اس فرمان ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسی عورت سے کہے جو اپنے خاوند کی وفات کے بعد عدت گزار رہی ہو کہ تو میرے نزدیک معزز ہے، میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں اور اللہ تیری طرف بھلائی اور رزق کو لانے والا ہے، اس طرح کی بات کہے۔
حدیث نمبر: 14021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: " هُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَةِ فِي عِدَّتِهَا: إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ، وَإِنِّي إِنْ تَزَوَّجْتُ أَحْسَنْتُ إِلَى امْرَأَتِي ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی شخص عورت کی عدت کے اندر یہ کہے کہ میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں، اگر میں نے شادی کی تو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کروں گا۔
حدیث نمبر: 14022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: " هُوَ قَوْلُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَةِ فِي عِدَّتِهَا: إِنَّكِ لَجَمِيلَةٌ وَإِنَّكِ لَتُعْجِبِينَنِي وَيُضْمِرُ خِطْبَتَهَا، فَلَا يُبْدِيهِ لَهَا هَذَا كُلُّهُ حِلٌّ مَعْرُوفٌ: {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: يَقُولُ لَهَا: لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ، فَإِنِّي نَاكِحُكِ هَذَا لَا يَحِلُّ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مرد کا عورت کو عدت کے اندر کہنا: آپ خوبصورت ہیں، آپ مجھے اچھی لگتی ہیں، نکاح کا پیغام پوشیدہ رکھے، ظاہر نہ کرے، یہ تمام جائز ہیں ﴿وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] پوشیدہ وعدہ نہ دو کہ کوئی شخص اس سے کہے کہ اپنا نکاح خود نہ کرنا، میں تجھ سے نکاح کروں گا، یہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14023
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: " لَا يَخْطُبُهَا فِي عِدَّتِهَا {إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥]، يَقُولُ: إِنَّكِ لَجَمِيلَةٌ وَإِنَّكِ لَفِي مَنْصِبٍ وَإِنِّي لَمَرْغُوبٌ فِيكِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] کہ عورت کو عدت کے ایام میں پیغامِ نکاح نہ دے ﴿إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ [سورة البقرة: 235] یعنی یہ کہہ دے کہ آپ بڑی خوبصورت ہیں، آپ کا ایک مقام ہے، آپ میں رغبت کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 14024
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: " يُقَاطِعُهَا عَلَى كَذَا وَكَذَا أَنْ لَا تَزَوَّجَ غَيْرَهُ: {إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: يَقُولُ: إِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ نَجْتَمِعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ کہے کہ وہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے، ﴿إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ [سورة البقرة: 235] کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے: ”مجھے تیرے لیے رغبت ہے، میں امید کرتا ہوں کہ ہم جمع ہو جائیں۔“
حدیث نمبر: 14025
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: ذُكِرَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: " لَا يَأْخُذُ مِيثَاقَهَا أَنْ لَا تَنْكِحَ غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ نے اس آیت ﴿وَلٰكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں بیان کیا ہے کہ وہ اس سے پختہ وعدہ نہ لے کہ وہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے گی۔
حدیث نمبر: 14026
قَالَ: وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: " السِّرُّ هُوَ الزِّنَا " قَالَ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْهَا الْحَسَنَ أَيْضًا، فَقَالَ: " هُوَ الزِّنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سدی، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] کے متعلق انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد زنا ہے،“ کہتے ہیں: پھر میں نے حضرت حسن رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد زنا ہے۔“
حدیث نمبر: 14027
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: " الزِّنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سدی، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] سے مراد زنا ہے۔
حدیث نمبر: 14028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: بَلَغَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَعْنَى: {لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] " الرَّفَثُ مِنَ الْكَلَامِ أَيْ لَا يُوَاجِهُهَا الرَّجُلُ فِي تَعْرِيضِ الْجِمَاعِ مِنْ نَفْسِهِ وَيَقُولُ آخَرُونَ: هُوَ الزِّنَا وَاللهُ أَعْلَمُ "، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّعْرِيضِ: يُرْسِلُ إِلَيْهَا فِي عِدَّتِهَا يَقُولُ: إِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّي عَلَيْكِ لَحَرِيصٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْلِمَكِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ رَأَيْتُ رَأْيَكِ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: يُعَرِّضُ فَلَا يَبُوحُ، يَقُولُ: إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي فَأَنْتِ بِحَمْدِ اللهِ ⦗٢٩١⦘ نَافِقَةٌ، وَتَقُولُ هِيَ: قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِنْ وَاعَدَتْ رَجُلًا فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] سے مراد بےہودہ کلام ہے، لیکن دل میں جماع کا ارادہ نہ ہو اور دوسرے کہتے ہیں کہ زنا مراد ہے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر عورت کو نکاح کا اشارہ دینا، یعنی میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں، میں تیرے لیے حریص ہوں، میں پسند کرتا ہوں کہ تو مجھے بتائے جب تیری عدت ختم ہو جائے، آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اشارہ کرے، ظاہر نہ کرے۔ وہ کہے: مجھے بھی ضرورت ہے، تو خوش ہو جا، تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ خرچے والی ہے، وہ کہہ دیتی ہے: میں نے سن لیا جو تو نے کہہ دیا، حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر اس نے کسی مرد کو عدت کے اندر وعدہ دے دیا، پھر نکاح کر لیا تو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی۔ [حسن]
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر عورت کو نکاح کا اشارہ دینا، یعنی میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں، میں تیرے لیے حریص ہوں، میں پسند کرتا ہوں کہ تو مجھے بتائے جب تیری عدت ختم ہو جائے، آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اشارہ کرے، ظاہر نہ کرے۔ وہ کہے: مجھے بھی ضرورت ہے، تو خوش ہو جا، تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ خرچے والی ہے، وہ کہہ دیتی ہے: میں نے سن لیا جو تو نے کہہ دیا، حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر اس نے کسی مرد کو عدت کے اندر وعدہ دے دیا، پھر نکاح کر لیا تو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی۔ [حسن]