کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عورتیں دلہن کو کیا (دعائیہ کلمات) کہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 13843
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَوُعِكْتُ، فَتَمَرَّقَ شَعْرِي، فَأَوْفَى جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ، وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبَاتٌ لِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي، فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى وَقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفْسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ، فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح ٦ برس کی عمر میں کیا اور ہم مدینہ میں بنو حارث بن خزرج کے ہاں ٹھہرے۔ میں تھک چکی تھی، میرے بال بکھرے ہوئے تھے تو میں نے اپنے بال سنوارے، میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں اور میں اپنی سہیلوں کے ساتھ جھولے میں تھی۔ انہوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پاس آئی، مجھے معلوم نہ تھا ان کا کیا ارادہ ہے، انہوں نے مجھے پکڑ کر گھر کی دہلیز پر کھڑا کر دیا اور تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھول رہا تھا۔ پھر انہوں نے پانی کے مانند کوئی چیز لے کر میرے سر اور چہرے پر ملی۔ پھر مجھے گھر میں داخل کر دیا۔ اچانک گھر میں انصار کی عورتیں تھیں۔ انہوں نے کہا: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ» ”آپ پر خیر و برکت ہو۔“ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے میری حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ مجھے دکھائی دیے تو ان عورتوں نے مجھے آپ ﷺ کے سپرد کر دیا، اس وقت میری عمر نو برس کی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13843
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»