حدیث نمبر: 13818
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا} [الأحزاب: 37]، وَقَالَ تَعَالَى: {وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: 50] مَعَ آيَاتٍ سِوَاهُمَا ذَكَرَهَا، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سَمَّى اللهُ النِّكَاحَ اسْمَيْنِ النِّكَاحَ، وَالتَّزْوِيجَ وَأَبَانَ أَنَّ الْهِبَةَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْمُؤْمِنِينَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ ”پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی (یعنی طلاق دے دی) تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کر دیا۔“ [سورة الأحزاب: 37]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”اور کوئی مومن عورت اگر اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کر دے، اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہیں، (یہ حکم) خاص آپ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔“ [سورة الأحزاب: 50]“ ان دونوں کے علاوہ کچھ اور آیات کے ساتھ جو انہوں نے ذکر کیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نکاح کے دو نام رکھے ہیں: نکاح اور تزویج، اور یہ واضح فرما دیا کہ ہبہ (کے ذریعے نکاح) صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”اور کوئی مومن عورت اگر اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کر دے، اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہیں، (یہ حکم) خاص آپ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔“ [سورة الأحزاب: 50]“ ان دونوں کے علاوہ کچھ اور آیات کے ساتھ جو انہوں نے ذکر کیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نکاح کے دو نام رکھے ہیں: نکاح اور تزویج، اور یہ واضح فرما دیا کہ ہبہ (کے ذریعے نکاح) صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔“
حدیث نمبر: 13818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟ " فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا " قَالَ: لَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ: " فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا "، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ: " قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ ⦗٢٣٣⦘ الْقُرْآنِ "، وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ: " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا نفس آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے“، وہ بہت دیر کھڑی رہی تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو میرا نکاح اس سے کر دیں“، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟“ اس نے کہا: ”میری یہ چادر ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ چادر اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس کوئی چادر نہ ہوگی، کوئی اور چیز تلاش کرو“، اس نے کہا: ”میں کچھ بھی نہیں پاتا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو“، اس کو تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا قرآن کا کوئی حصہ یاد ہے؟“ اس نے کہا: ”فلاں فلاں سورت“، اس نے ان کا نام لیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے عوض میں نے تیرا اس سے نکاح کر دیا (یعنی قرآن اس کو یاد کروا دینا)“
(ب) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ دو روایتوں میں سے ایک سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا ہے اس کے عوض جو تجھے قرآن یاد ہے“
(ج) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے، اس کے عوض جو تیرے پاس قرآن ہے“۔
(ب) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ دو روایتوں میں سے ایک سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا ہے اس کے عوض جو تجھے قرآن یاد ہے“
(ج) ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے، اس کے عوض جو تیرے پاس قرآن ہے“۔
حدیث نمبر: 13819
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ: " قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا۔ انہوں نے یہ قصہ ذکر کیا، لیکن چادر کا نام نہیں لیا اور کہتے ہیں ایک شخص کھڑا ہوا۔ کہنے لگا: میرا نکاح اس سے کر دو۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا جو تیرے پاس قرآن ہے اس کے بدلے۔“
حدیث نمبر: 13820
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَتِ امْرَأَةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: اذْهَبْ " فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں لوگوں کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس موجود تھا۔ ایک عورت کھڑی ہوئی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا اور کہتے ہیں: لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے کہا: میری شادی اس سے کر دیں۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا جو تجھے قرآن یاد ہے اس کے عوض۔“
حدیث نمبر: 13821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ: " فَاذْهَبْ " قَدْ مُلِّكْتَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ دُونَ سِيَاقِهِ تَمَامَ الْمَتْنِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی، انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ضرورت نہ ہو تو میرے ساتھ نکاح کر دیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے اس قرآن کے عوض جو تیرے پاس موجود ہے (یعنی تجھے یاد ہے اسے بھی یاد کروا دینا)۔“
(ب) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے منقول اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے اس کے بدلے جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔“ پھر کہا: یہ حدیث ابن ابی حازم کی ہے۔
(ب) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے منقول اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے اس کے بدلے جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔“ پھر کہا: یہ حدیث ابن ابی حازم کی ہے۔
حدیث نمبر: 13822
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا ⦗٢٣٤⦘ بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَنْ عَارِمٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حَمَّادٍ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو حازم، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے: ”جاؤ، میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا (یعنی نکاح کر دیا) اس کے عوض جو تیرے ساتھ قرآن ہے۔“
(ب) قعنبی، ابو حازم سے نقل فرماتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ ”جاؤ، میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے (یعنی نکاح کر دیا ہے)۔“
(ب) قعنبی، ابو حازم سے نقل فرماتے ہیں اور حدیث میں ہے کہ ”جاؤ، میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے (یعنی نکاح کر دیا ہے)۔“
حدیث نمبر: 13823
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَقَالَ: مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ الْيَوْمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُسْلِمِينَ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " مَاذَا عِنْدَكَ؟ " قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: " أَعْطِهَا ثَوْبًا " قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: " أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: " مَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ " قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، هَذَا حَدِيثُ خَلَفٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ " فَقَدْ زَوَّجْنَاكَهَا ". وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْلَكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، وَرَوَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: " زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ "، فَرِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَلَى لَفْظِ التَّزْوِيجِ إِلَّا رِوَايَةَ الشَّاذِّ مِنْهَا، وَالْجَمَاعَةُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِمَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْحَجِّ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ: " فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ " قَالَ أَصْحَابُنَا: وَهِيَ كَلِمَةُ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ اللَّذَيْنِ وَرَدَ بِهِمَا الْقُرْآنُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو حازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی۔ اس نے کہا کہ ایک عورت نے اپنا نفس اللہ اور رسول کے لیے ہبہ کردیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے آج کے دن عورت کی ضرورت نہیں ہے“، تو کمزور مسلمانوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا نکاح میرے ساتھ کردیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کپڑا ہی دے دو“۔ وہ شخص کہنے لگا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو لوہے کی انگوٹھی ہی دے دو“۔ اس شخص نے کہا: میں نہیں پاتا، یعنی میرے پاس موجود نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں نے قرآن کے عوض تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ب) ابو ربیع کی روایت میں ہے کہ تحقیق ”ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ج) ابو حازم حضرت سہل سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا قرآن کے بدلے جو آپ کو یاد ہے“۔
(د) ابو غسان محمد بن مطرف سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔
(ذ) جمہور تو لفظ تزویج نقل کرتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو لیا ہوا ہے، اللہ کی امانت کی وجہ سے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ (یعنی نکاح) کی وجہ سے حلال کیا ہے“۔ لفظ نکاح اور تزوج دونوں قرآن میں آئے ہیں۔
(ب) ابو ربیع کی روایت میں ہے کہ تحقیق ”ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ج) ابو حازم حضرت سہل سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا قرآن کے بدلے جو آپ کو یاد ہے“۔
(د) ابو غسان محمد بن مطرف سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔
(ذ) جمہور تو لفظ تزویج نقل کرتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو لیا ہوا ہے، اللہ کی امانت کی وجہ سے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ (یعنی نکاح) کی وجہ سے حلال کیا ہے“۔ لفظ نکاح اور تزوج دونوں قرآن میں آئے ہیں۔