حدیث نمبر: 13586
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ، فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ، فَقَالَ: " أَصْبِرْنِي " قَالَ: اصْطَبِرْ قَالَ: " إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ "، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصٍ، فَاحْتَضَنَهُ، وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ قَوْلُهُ أَصْبِرْنِي يُرِيدُ أَقِدْنِي مِنْ نَفْسِكَ، وَقَوْلُهُ اصْطَبِرْ مَعْنَاهُ اسْتَقِدْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری ایک دن لوگوں کو مزاح والی باتیں کر کے ہنسا رہا تھا تو نبی ﷺ نے لکڑی کے ساتھ اس کے پہلو میں کچوکا لگایا تو اس نے کہا: ”کیا میں اس کا بدلہ لوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بدلہ لے لو۔“ اس نے کہا: ”آپ کے بدن پر قمیص ہے اور میرا بدن بغیر قمیص کے تھا“، آپ ﷺ نے قمیص اٹھا دی تو اس نے آپ کو پکڑ لیا اور آپ کے پہلو کو چومنے لگا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا تو صرف یہی (آپ کا بدن چومنے کا) ارادہ تھا۔“
حدیث نمبر: 13587
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ، عَنْ جَدِّهَا زَارِعٍ، فَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ، وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ، فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمِ اللهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: بَلْ جَبَلَكَ اللهُ عَلَيْهِمَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ وَرَسُولُهُ " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زراع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ وفد عبد القیس میں شامل تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی سواریوں سے سبقت کرتے ہوئے اترے تاکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیں۔ سیدنا منذر اشج رضی اللہ عنہ نے انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ اپنے تھیلے کے پاس آئے تو انھوں نے (اس میں سے نکال کر) کپڑے پہنے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں، وہ «الْحِلْمُ» ”حلم“ اور «الْأَنَاةُ» ”اناۃ“ ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا مجھے وہ دونوں (اب) عطا ہوں گی یا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ خصلتیں عادتاً عطا کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تجھے اللہ تعالیٰ نے وہ دونوں جبلتاً دی ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا ان دو اچھی صفات کے عطا کرنے پر شکر ادا کیا کہ وہ دونوں خصلتیں اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔