کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مرد کا مرد سے معانقہ (گلے ملنے) کے متعلق جو مروی ہے جب کہ وہ شہوت ابھارنے کا سبب نہ بنے
حدیث نمبر: 13572
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ سُيِّرَ مِنَ الشَّامِ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذًا أُخْبِرُكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا، قُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذْ لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي، وَبَعَثَ إِلِيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي، فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَالْتَزَمَنِي، فَكَانَتْ تِلْكَ الْحَالَةُ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ.
حافظ ثناء اللہ
عزہ کے ایک آدمی نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہا، جب ان کو شام کی طرف بھیجا کہ: ”میں تم سے حدیثِ رسول ﷺ کے بارے میں پوچھتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اگر میں تجھے بتلا دوں تو کیا آپ اسے صیغہ راز میں رکھیں گے؟“ میں نے کہا: ”وہ ایسی بات نہیں ہے۔ کیا نبی ﷺ تم سے مصافحہ کرتے تھے، جب تم ان سے ملاقات کرتے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جب بھی میں آپ ﷺ کو ملا تو آپ ﷺ نے مجھ سے مصافحہ ہی کیا ہے اور میری طرف ایک دن کسی کو بھیجا اور میں گھر میں نہیں تھا۔ جب میں گھر میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ ﷺ نے کسی کو میری طرف بھیجا، میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ چارپائی پر بیٹھے تھے، آپ ﷺ مجھ سے لپٹ گئے، یہ بہت اچھا موقع تھا، بہت اچھا تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13572
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13573
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُقْرِئِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنْحَنِي بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِذَا الْتَقَيْنَا؟ قَالَ: " لَا " قَالَ: فَيَلْتَزِمُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ: " لَا " قَالَ: فَيُصَافِحُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ وَقَدْ كَانَ اخْتَلَطَ، تَرَكَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ لِاخْتِلَاطِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا جب ہم ملاقات کریں تو ایک دوسرے کے لیے جھکیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“۔ پھر پوچھا: ہم ایک دوسرے کو گلے مل لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر پوچھا: مصافحہ کر لیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13573
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ بِمَاءٍ لَهُ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، تَوَجَّهَ الْعِرَاقَ، فَلَحِقَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ بِالرُّجُوعِ، فَأَبَى أَنْ يَرْجِعَ، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ وَبَكَى، وَقَالَ: " أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ مِنْ قَتِيلٍ " هَكَذَا رَوَاهُ شَبَابَةُ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما پانی پر تھے، ان کو خبر ملی کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما عراق کی طرف جا رہے ہیں تو وہ ان سے ملے، لمبی حدیث ذکر کی جس میں ان کو لوٹنے کا حکم دیا تو انھوں نے لوٹنے سے انکار کر دیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے گلے ملے اور رو پڑے اور فرمایا: «أَسْتَوْدِعُكَ اللّٰهَ مِنْ قَتِيلٍ» ”میں تجھے تیرے قتل ہونے کے ڈر سے اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13574
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 13575
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ الْمُصَافَحَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَوْا صَافَحُوا، فَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ عَانَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ مصافحہ کو ناپسند کرتے تھے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے اس بات کا ذکر شعبی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: محمد ﷺ کے ساتھی جب بھی ملتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے اور جب سفر سے آتے تو گلے ملتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13575
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»