کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آپ ﷺ کے ساتھ اس بات کے خاص ہونے کا بیان کہ آپ کی بیویاں امہات المومنین ہیں، اور یہ کہ آپ کے بعد تمام جہان والوں پر ان سے نکاح حرام ہے
حدیث نمبر: 13418
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَزَوَّجْتُ عَائِشَةَ أَوْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللهِ، وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣] " قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا مِهْرَانُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا: اگر نبی ﷺ فوت ہو گئے تو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 53]۔
حدیث نمبر: 13419
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ، أَوْ غَيْرِهِ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦] وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ، فَقَالَ: " يَا غُلَامُ حُكَّهَا " قَالَ: هَذَا مُصْحَفُ أَبِي فَذَهَبَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، ⦗١١١⦘ فَقَالَ: " إِنَّهُ كَانَ يُلْهِينِي الْقُرْآنُ، وَيُلْهِيكَ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک بچے کے پاس سے گزرے وہ پڑھ رہا تھا: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”اور نبی ﷺ تمہارے باپ ہیں،“ تو انہوں نے کہا: ”اے بچے! اسے مٹا دے۔“ اس نے کہا: ”یہ مصحفِ ابی (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) ہے،“ تو وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ”اس لیے کہ قرآن مجھے مشغول رکھتا ہے (میں قرآن پڑھتا ہوں) اور تجھے بازار کا شور و غل مصروف رکھتا ہے (یعنی خرید و فروخت)۔“
حدیث نمبر: 13420
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا يُونُسُ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} [الأحزاب: ٦] وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ {وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: ٦].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ آیت پڑھتے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] اور آپ ﷺ ان کے باپ ہیں۔
حدیث نمبر: 13421
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ شِئْتِ أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الْجَنَّةِ، فَلَا تَزَوَّجِي بَعْدِي، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ فِي الْجَنَّةِ لِآخِرِ أَزْوَاجِهَا فِي الدُّنْيَا، فَلِذَلِكَ " حَرَّمَ اللهُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْكَحْنَ بَعْدَهُ؛ لِأَنَّهُنَّ أَزْوَاجُهُ فِي الْجَنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا: اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو جنت میں بھی میری بیوی ہو تو میرے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرنا، کیونکہ عورت جنت میں اپنے اس آخری خاوند کی بیوی ہوگی جو دنیا میں تھا، اس لیے نبی ﷺ کی بیویوں سے نکاح کرنا حرام ہو گیا، کیونکہ وہ جنت میں بھی آپ ﷺ کی بیویاں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 13422
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فراسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّهْ، فَقَالَتْ: " أَنَا أُمُّ رِجَالِكُمْ لَسْتُ بِأُمِّكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے ان سے کہا: اے امی! تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے آدمیوں کی ماں ہوں، تمہاری ماں نہیں ہوں۔