کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آپ ﷺ کے لیے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے مباح ہونے کا بیان اور آپ کے علاوہ کسی دوسرے کے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنے میں دو اقوال ہیں
حدیث نمبر: 13405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُ بْنُ أَحْمَدَ التَّمَّارُ ⦗١٠٦⦘ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلِيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا؟ فَقَالَ لَهَا: " لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہندہ بنت عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق میں اس درجے میں ذلت کی خواہش مند ہوتی جتنا آپ کے گھرانے کی ذلت و رسوائی کی میں خواہش مند تھی، لیکن اب میرا یہ حال ہے کہ میں سب سے زیادہ خواہش مند ہوں کہ روئے زمین کے تمام گھرانوں میں آپ کا گھرانہ عزت و سربلندی والا ہو، پھر انہوں نے کہا: ابو سفیان بخیل آدمی ہیں تو کیا میرے لیے کوئی حرج تو نہیں کہ اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر) اپنے اہل و عیال کو کھلاؤں؟ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ۔“