کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آپ ﷺ کے لیے اس بات کے مباح ہونے کا بیان کہ آپ نمازی کو پکاریں تو وہ آپ کو جواب دے، اگرچہ وہ نماز میں ہو
حدیث نمبر: 13397
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗١٠٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَصَلَّى ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ؟ " قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ: " أَلَمْ يَقُلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} [الأنفال: ٢٤]، الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ " قَالَ: فَكَأَنَّهُ نَسِيَهَا أَوْ نَسِيَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الَّذِي قُلْتَ لِي، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن معلی انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو بلایا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے، جب نماز مکمل ہوئی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس چیز نے تم کو روکا، جب میں نے پکارا تھا؟“ تو صحابی نے کہا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد نہیں فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24]؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تم کو قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت نہ سکھلاؤں؟“ راوی کہتا ہے: ایسے لگتا تھا کہ وہ بھول گیا ہے یا بھلا دیا گیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے مجھے کیا کہا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2]، یہ سات آیات بار بار پڑھی جانے والی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں۔“