أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَدْ سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَهُ حِينَ وُلِدَ وَسَمَّى أَخَوَيْهِ بِذَلِكَ حِينَ وُلِدَا فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے (یعنی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما) اور شاید مسلمانوں کی دو جماعتیں اس کی وجہ سے صلح کرلیں۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَنْ وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟ " فَقُلْتُ: حَرْبًا قَالَ: " هُوَ ⦗١٠١⦘ الْحَسَنُ "، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟ " قُلْتُ: حَرْبًا قَالَ: " هُوَ الْحُسَيْنُ "، فَلَمَّا وُلِدَ مُحْسِنٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا سَمَّيْتَ ابْنِي؟ " قُلْتُ: حَرْبًا قَالَ: " هُوَ مُحْسِنٌ "، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمَّيْتُ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ بِتَسْمِيَةِ هَارُونَ بَنِيهِ شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبَّرُ " لَفْظُ حَدِيثِ يُونُسَ وَفِي رِوَايَةِ إِسْرَائِيلَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ حسن ہے“ اور جب حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، وہ حسین ہے“۔
پھر جب محسن پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ محسن ہے“، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے ان بیٹوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں جیسے رکھے۔ اس کا شبر اور پھر شبیر اور پھر مشبر۔“
پھر جب محسن پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: حرب تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ محسن ہے“، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے ان بیٹوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں جیسے رکھے۔ اس کا شبر اور پھر شبیر اور پھر مشبر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: قَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَأَدْخَلَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَابْنَيْهِمَا تَحْتَ ثَوْبِهِ وَقَالَ: " اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي وَأَهْلُ بَيْتِي ".
حافظ ثناء اللہ
سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی، آپ ﷺ نے اپنے کپڑے کے نیچے علی، فاطمہ، حسن، حسین رضی اللہ عنہم کو داخل کیا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل میں سے ہیں اور میرے اہل بیت میں سے ہیں۔“
وَرَوَى حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ} [آل عمران: ٦١]، دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: " اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي " حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرٌ الْخَلَدِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 61] تو آپ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل میں سے ہیں۔“