کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آپ ﷺ کے لیے عورت کی اجازت کے بغیر اس سے نکاح کے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو اس کے ولی کی اجازت کے بغیر بھی جائز ہو گیا، اور اللہ عزوجل نے آپ کو مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حقدار بنا دیا
حدیث نمبر: 13363
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا لِي بِالنِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ "، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا قَالَ: " مَا عِنْدَكَ؟ " قَالَ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ قَالَ: " مَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ " قَالَ: كَذَا وَكَذَا قَالَ: " قَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ: " لَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " وَكَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ وَغَيْرُهُ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے عورتوں سے کوئی غرض نہیں۔“ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کو میرے نکاح میں دے دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے پاس کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن آتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی، فلاں فلاں سورت تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تیری اس سے شادی قرآن کی وجہ سے کر دیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 13364
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ} [الأحزاب: ٦]، فَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِمَوَالِيهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلَأً أَوْ ضِيَاعًا فَأَنَا وَلِيُّهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر مومن کی خیر خواہی کا دنیا اور آخرت میں زیادہ حق دار ہوں، اگر تم چاہو تو یہ پڑھو: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6]، جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور جس نے کوئی بوجھ وغیرہ چھوڑا تو میں اس کی طرف سے ادا کرنے والا ہوں۔“