کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے کا حکم دیا، پس فرمایا: ”برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سب سے اچھا ہو“
حدیث نمبر: 13298
قَالَ بَعْضُ أَهْلِ التَّفْسِيرِ: وَذَلِكَ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ لَعَنَهُ اللهُ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ مُبْغِضًا يَكْرَهُهُ وَيَكْرَهُ رُؤْيَتَهُ فَأَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى بِالْعَفْوِ وَالصَّفْحِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الَّذِي حَكَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ التَّفْسِيرِ.
حافظ ثناء اللہ
بعض اہلِ تفسیر نے کہا: ”اور وہ اس طرح کہ ابوجہل، اللہ اس پر لعنت کرے، نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا، اور نبی کریم ﷺ اس سے بغض رکھتے تھے، اسے ناپسند کرتے تھے اور اس کو دیکھنا بھی ناپسند کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ وہ بات ہے جسے ابو العباس نے بعض اہلِ تفسیر سے نقل کیا ہے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ وہ بات ہے جسے ابو العباس نے بعض اہلِ تفسیر سے نقل کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 13298
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِمَامُ، أنبأ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْهُذَيْلِ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [فصلت: ٣٤]، وَذَلِكَ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ لَعَنَهُ اللهُ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ مُبْغِضًا يَكْرَهُ رُؤْيَتَهُ، فَأَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى بِالْعَفْوِ وَالصَّفْحِ، يَقُولُ: فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ فِي الدُّنْيَا حَمِيمٌ لَكَ فِي النَّسَبِ الشَّفِيقُ عَلَيْكَ، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ} [المؤمنون: ٩٦] نَزَلَتْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي جَهْلٍ حِينَ جَهِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة فصلت: 34] ابوجہل (اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے) وہ نبی ﷺ کو تکلیف دیتا تھا، نبی ﷺ اس کو ناپسند کرتے تھے تو اللہ پاک نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا کہ صبر اور درگزر کرو۔ فرمایا: جب آپ یہ کر لیں گے تو ”وہ شخص جس کے اور آپ کے درمیان دشمنی ہے“ یعنی ابوجہل وہ آپ کا دنیا میں دوست بن جائے گا اور «حَمِيمٌ» ہوگا یعنی آپ کے نسب کا خیال کر کے آپ پر شفقت کرے گا۔
حدیث نمبر: 13299
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [فصلت: ٣٤] قَالَ: " أَمَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبِرِ عِنْدَ ⦗٧٢⦘ الْغَضَبِ، وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ، وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمَهُمُ اللهُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ، كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ " ذَكَرَ الْبُخَارِيُّ مَتْنَهُ فِي التَّرْجَمَةِ وَكَأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ذَهَبَ إِلَى أَنَّهُ وَإِنْ خَاطَبَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْمُرَادُ بِهِ هُوَ وَغَيْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة فصلت: 34] کے بارے میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ غصے کے وقت صبر کریں، جہالت کے وقت بردباری اور برے وقت میں معاف کریں، جب وہ یہ کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو شیطان سے بچا لے گا اور دشمن کو ذلیل کر دے گا گویا کہ وہ بڑا گرم جوش دوست ہے۔
حدیث نمبر: 13300
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ نَصْرٍ الْبَزَّازُ دُرُسْتَ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ، فَقَالَ: " أَجَلْ وَاللهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْفُرْقَانِ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} [الأحزاب: ٤٥]، وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ " الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَةَ بِالسَّيِّئَةِ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ أَقْبِضَهُ حَتَّى أُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، وَأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَفْتَحَ بِهِ أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا " قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ لَقِيتُ كَعْبَ الْحَبْرَ، فَسَأَلْتُهُ فَمَا اخْتَلَفَا فِي حَرْفٍ إِلَّا أَنَّ كَعْبًا يَقُولُ: أَعْيُنًا عَمَوِيًّا وَقُلُوبًا غُلُوفًا وَآذَانًا صُمُومًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سَلْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا، میں نے ان سے کہا کہ جو توراۃ میں نبی ﷺ کے اوصاف ذکر ہوئے ہیں مجھے ان کی خبر دیجیے۔ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ کی جو صفات قرآن میں ہیں، ان میں سے بعض صفات توراۃ میں بھی ذکر کی گئی ہیں، یعنی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 45] اور ان پڑھوں کو اس بات کی ترغیب دلانے والا (بنا کر بھیجا) کہ ”آپ ﷺ میرے بندے اور میرے رسول ہیں، میں نے آپ کا نام 'متوکل' (اللہ پر توکل کرنے والا) رکھا ہے، آپ ﷺ نہ تو برے اخلاق والے ہیں اور نہ ہی سخت طبیعت والے ہیں اور نہ ہی بازار میں چیخ چیخ کر بولنے والے ہیں اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں، بلکہ آپ ﷺ تو درگزر کرتے اور معاف کرتے ہیں۔ میں آپ کو ہرگز فوت نہیں کروں گا، یہاں تک کہ ٹیڑھے سیدھے کھڑے ہوجائیں اور وہ یہ کہہ دیں کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے“ اور میں تیرے ذریعے اندھوں کو آنکھیں دوں گا، بہروں کو کان اور غافل دلوں کو دل عطا کروں گا“۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کعب عالم رحمہ اللہ سے ملا، میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا اور ایک حرف کا بھی فرق نہیں آیا، سوائے ان الفاظ کے کہ: «أَعْيُنًا عُمْيًا، وَقُلُوبًا غُلْفًا، وَآذَانًا صُمًّا» ”کہ ہماری آنکھیں اندھی ہیں، دل پردے میں ہیں اور کانوں میں ڈاٹ ہے“۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کعب عالم رحمہ اللہ سے ملا، میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا اور ایک حرف کا بھی فرق نہیں آیا، سوائے ان الفاظ کے کہ: «أَعْيُنًا عُمْيًا، وَقُلُوبًا غُلْفًا، وَآذَانًا صُمًّا» ”کہ ہماری آنکھیں اندھی ہیں، دل پردے میں ہیں اور کانوں میں ڈاٹ ہے“۔
حدیث نمبر: 13301
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَاحِشٍ، وَلَا مُتَفَحِّشٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ فحش کلامی کرنے والے نہ تھے اور نہ ہی اس کو پسند کرتے تھے اور نہ بازار میں چیخ کر بولنے والے اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی کے ساتھ دیتے، بلکہ آپ ﷺ معاف کرتے اور درگزر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 13302
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ: " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا مِنْ نِسَائِهِ قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ خَادِمًا قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ شَيْئًا بِيَمِينِهِ قَطُّ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَانْتَقَمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللهِ فَيَنْتَقِمُ لَهَا، وَمَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے کسی کو کبھی نہیں مارا، نہ اپنے خادموں کو اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے کوئی چیز ماری سوائے جہاد فی سبیل اللہ کے، اور ایسی بھی کوئی چیز نہیں پائی گئی کہ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے انتقام لیا ہو اور جب بھی آپ ﷺ کو دو چیزوں میں اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے ہمیشہ آسان چیز کو پسند کیا، جب تک اس میں کوئی برائی نہ ہو۔ اگر اس میں کوئی برائی ہوتی تو آپ ﷺ لوگوں کی نسبت اس چیز سے زیادہ دور ہوتے۔