کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جنگ کی تدبیر کے علاوہ آنکھوں کی خیانت (کنکھیوں سے اشارہ کرنے) کے حرام ہونے کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ ⦗٦٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ أَيْ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ عَبْدَ اللهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " أَمَا فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي قَدْ كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ؟ "، قَالُوا: مَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا فِي نَفْسِكَ هَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ " لَا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ لِنَبِيٍّ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فتح کا دن آیا یعنی فتح مکہ کا دن، تو رسول اللہ ﷺ نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب لوگوں کو امان دے دی، ان میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بھی تھا۔ پھر پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ فرمایا: رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو وہ اسے لے کر آئے یہاں تک کہ اسے نبی ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبداللہ کی بیعت لے لیجیے۔ آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا، ہر بار انکار کرتے رہے، پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس کی بیعت لے لی۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جو اس کی طرف اٹھتا جب اس نے دیکھا کہ میں نے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ روک رکھا ہے، اور اسے قتل کر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہماری طرف اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13277
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، وَزُهَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”لڑائی دھوکا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13278
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا، إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب وہ جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے کہ جب بھی نبی ﷺ غزوہ کرنے کا ارادہ کرتے اس کے علاوہ کی طرف توریہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13279
درجۂ حدیث محدثین: بخاري، مسلم 2769
تخریج حدیث «بخاري، مسلم 2769»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللهَ وَرَسُولَهُ؟ " فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: فَأْذَنْ لِي فَأَقُولَ، قَالَ: " قَدْ أَذِنْتُ لَكَ " فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي احْتِيَالِهِ فِي قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَتَلُوهُ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے،“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ بات آپ کو پسند ہے کہ میں اس کو قتل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ﷺ مجھے اجازت دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے اجازت دی،“ پھر انہوں نے کعب بن اشرف کے قتل کا قصہ بیان کیا کہ جب میں نے اس کو قتل کر لیا تو نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو خبر دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”لڑائی دھوکا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13280