کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: صدقہ کے جانوروں کو داغنے کا بیان
حدیث نمبر: 13255
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ، فَوَافَيْتُهُ وَفِي يَدِهِ مِيسَمٌ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہما کو صبح صبح نبی ﷺ کے پاس لے کر گیا تاکہ آپ ﷺ انہیں گھٹی دیں۔ میں آپ ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں نشان لگانے والا آلہ تھا، جس سے آپ ﷺ صدقہ کے اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13255
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 1502
تخریج حدیث «بخاري 1502۔ مسلم 2119»
حدیث نمبر: 13256
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَابْنُ يَاسِينَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ، فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَغَدَوْتُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حَوْتَكِيَّةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مُوسَى مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا اور کہا: اے انس! اس بچے کو دیکھ، اس کو کوئی چیز نہ پہنچ جائے، اس کو نبی ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ کہتے ہیں: میں اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آیا، آپ ﷺ ایک باغ میں کھڑے تھے، آپ ﷺ پر «حَوْتَكِيَّة» چادر تھی اور آپ ﷺ فتح مکہ سے آنے والے اونٹوں کی پشتوں پر نشان لگا رہے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13256
درجۂ حدیث محدثین: بخاري5824
تخریج حدیث «بخاري5824۔ مسلم2119»
حدیث نمبر: 13257
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُؤْتَى بِنَعَمٍ كَثِيرَةٍ مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، وَأَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّ فِي الظَّهْرِ لَنَاقَةً عَمْيَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَدْفَعُهَا إِلَى أَهْلِ الْبَيْتِ يَنْتَفِعُونَ بِهَا قَالَ: فَقُلْتُ: وَهِيَ عَمْيَاءُ؟ قَالَ: يَقْطُرُونَهَا بِالْإِبِلِ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَأْكُلُ مِنَ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ، هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: مِنْ نَعَمِ الْجِزْيَةِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرَدْتُمْ وَاللهِ أَكْلَهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ، فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنُحِرَتْ " قَالَ: وَكَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ، فَلَا تَكُونُ فَاكِهَةٌ، وَلَا طُرَيْفَةٌ إِلَّا جَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْهَا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَكُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ كَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ قَالَ: فَجَعَلَ فِي تِلْكَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْكَ الْجَزُورِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنَ اللَّحْمِ فَصُنِعَ، فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَسِمُ وَسْمَيْنِ وَسْمَ جِزْيَةٍ وَوَسْمَ صَدَقَةٍ، وَبِهَذَا نَقُولُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جزیہ کے اونٹ لائے گئے۔ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک اونٹنی اندھی ہے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہ اونٹنی اہل بیت کو دے دیتے ہیں، تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کر لیں۔ میں نے کہا: وہ اندھی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اونٹوں کی قطار میں شامل کر لیں گے، میں نے کہا: وہ زمین سے کیسے کھائے گی؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وہ جزیہ والے مال سے ہے یا صدقہ کے مال سے؟ میں نے کہا: جزیہ کے مال سے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا (اسے) کھانے کا ارادہ ہے، تو میں نے کہا: اس پر جزیہ کی نشانی لگائی گئی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے وہ ذبح کر دی گئی اور آپ کے پاس نو پلیٹیں تھیں، اس میں خوش طبعی یا ہنس مکھ والی بات نہیں (بلکہ حقیقت ہے)، ان پلیٹوں میں رکھ کر ازواجِ نبی ﷺ کو بھیجا گیا اور آخر میں سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا اور ان کے حصے میں کوئی کمی بیشی تھی تو وہ گوشت ازواجِ نبی ﷺ کے پاس بھیج دیا گیا، باقی گوشت کا کھانا تیار کیا گیا اور اس میں مہاجرین و انصار کو دعوت دی گئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دو نشان لگاتے تھے: جزیہ کا اور صدقہ کا۔ یہی ہمارا موقف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13257
درجۂ حدیث محدثین: موطا 619
تخریج حدیث «موطا 619»