حدیث نمبر: 13247
رُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الصَّدَقَةُ الْمَفْرُوضَةُ قَالَ الشَّافِعِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَتَصَدَّقَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ بِأَمْوَالِهِمَا وَذَلِكَ أَنَّ هَذَا تَطَوُّعٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى هَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ مِنْ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَى بَرِيرَةَ، وَذَلِكَ أَنَّهَا مِنْ بَرِيرَةَ تَطَوُّعٌ لَا صَدَقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابو جعفر محمد بن علی (امام باقر) رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم پر صرف فرض صدقہ (زکاۃ) حرام کیا گیا ہے۔“
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما نے بنو ہاشم اور بنو مطلب پر اپنے اموال صدقہ کیے، اور یہ اس لیے (جائز تھا) کہ یہ نفلی صدقہ تھا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ (روایت) گزر چکی ہے۔“
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم ﷺ نے اس صدقے میں سے ہدیہ قبول فرمایا جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا، اور یہ اس لیے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے وہ نفلی عطیہ تھا، صدقہ نہیں تھا۔“
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما نے بنو ہاشم اور بنو مطلب پر اپنے اموال صدقہ کیے، اور یہ اس لیے (جائز تھا) کہ یہ نفلی صدقہ تھا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ (روایت) گزر چکی ہے۔“
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم ﷺ نے اس صدقے میں سے ہدیہ قبول فرمایا جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا، اور یہ اس لیے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے وہ نفلی عطیہ تھا، صدقہ نہیں تھا۔“
حدیث نمبر: 13247
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُتِيَ ⦗٥٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا مِمَّا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا: ”اے اللہ کے نبی! یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ پر صدقہ کیا گیا“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بریرہ کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“۔
حدیث نمبر: 13248
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ، فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " قَالَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ وَعَلَيْهَا صَدَقَةٌ " قَالَ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے اور اس کے لیے صدقہ ہے۔“
حدیث نمبر: 13249
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْأَسَدِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ الْيَرْبُوعِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: بَعَثَتْ إِلِيَّ نُسَيْبَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ بِشَاةٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " قَالَتْ: لَا إِلَّا مَا أَرْسَلَتْ بِهِ نُسَيْبَةُ مِنْ تِلْكَ الشَّاةِ قَالَ: " قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نسیبہ انصاریہ کی طرف ایک بکری بھیجی گئی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے جو بکری (کا گوشت) نسیبہ نے بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب کرو، یہ اپنی جگہ پر پہنچ گئی ہے۔“