کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: وہ صدقہ وصول کرنے والوں کے حصے میں سے اجرت کے طور پر کچھ نہیں لیں گے
حدیث نمبر: 13239
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ قَالَ: اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَا: لَوْ بَعَثْنَا بِهَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، قَالَ لِي وَلِلْفَضْلِ: إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَاهُ فَأَمَرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ، فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ إِذْ دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا فَذَكَرَا لَهُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تَفْعَلَا، فَوَاللهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا نَفَاسَةً مِنْكَ عَلَيْنَا، فَوَاللهِ لَقَدْ نِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَفِسْنَاهُ، قَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ، أَرْسَلُوهُمَا، فَانْطَلَقَا فَاضْطَجَعَ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى جَاءَ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ، ثُمَّ دَخَلَ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَتَوَاكَلْنَا الْكَلَامَ، ثُمَّ تَكَلَّمَ أَحَدُنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنْتَ آمَنُ النَّاسِ وَأَوْصَلُ النَّاسِ، وَقَدْ بَلَغْنَا النِّكَاحَ، فَجِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى بَعْضِ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَنُؤَدِّيَ إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبُ كَمَا يُصِيبُ النَّاسُ، فَسَكَتَ طَوِيلًا، فَأَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُلْمِعُ إِلَيْنَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ أَنْ لَا تُكَلِّمَاهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ ⦗٥٠⦘ النَّاسِ، ادْعُو لِي مَحْمِيَةَ، وَكَانَ عَلَى الْخُمُسِ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ " لِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ: " أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ " لِي، فَأَنْكَحَنِي، وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: " أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا " قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ يُسَمِّهِ لِي، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ بن حارث اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے مشورہ کیا کہ اگر ہم ان دو بچوں یعنی مجھے اور فضل کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجیں تو وہ دونوں رسول اللہ ﷺ سے بات کریں اور آپ ﷺ انہیں صدقات پر عامل مقرر کر دیں، تو جو کام لوگ کرتے ہیں وہ بھی کریں اور جو حصہ لوگوں کو ملتا ہے وہ انہیں بھی ملے، وہ ابھی یہ باتیں کر رہے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے بات کی تو انہوں نے کہا: ”ایسا نہ کرو، اللہ کی قسم! وہ کرنے والا کام نہیں“، سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! تو اس لیے یہ کام نہیں کرتا کہ تجھے ہم پر فضیلت ہے، تو اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کا داماد ہے“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”انہیں بھیج دو“، تو وہ دونوں چلے گئے، جب نبی ﷺ نے نماز پڑھا دی تو ہم جلدی سے حجرہ کے پاس چلے گئے اور وہاں کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے ہمیں کانوں سے پکڑ کر فرمایا: ”اپنا ارادہ ظاہر کرو“، پھر آپ ﷺ اندر داخل ہوئے، ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہوئے، اس دن آپ ﷺ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہم نے کلام کرنے کا ارادہ کیا، ہم میں سے ایک نے کہا: ”آپ لوگوں میں سے سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں، ہم جوان ہو چکے ہیں، ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں صدقات پر کسی کام پر لگا دیں تو ہم بھی آپ ﷺ کے پاس وہ مال لے کر آئیں گے جو لوگ لے کر آتے ہیں اور ہمیں بھی وہ حصہ مل جائے جو لوگوں کو ملتا ہے“، آپ ﷺ خاموش رہے، ہم نے دوبارہ بولنے کا ارادہ کیا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہمیں پردہ کے پیچھے سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک صدقہ آلِ محمد ﷺ کے لیے جائز نہیں، یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے“، پھر آپ ﷺ نے سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا، ان کی ذمہ داری خمس پر تھی، اور سیدنا نوفل بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کو بلایا تو آپ ﷺ نے سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس نوجوان فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی شادی اپنی بیٹی سے کر دو“ تو اس نے شادی کر دی، اور سیدنا نوفل بن حارث رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اس نوجوان کی شادی اپنی بیٹی سے کر دو“ (جو میرے لیے تھی) تو اس نے میری شادی کر دی، پھر سیدنا محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں خمس سے اتنا اتنا دے دو۔“
حدیث نمبر: 13240
وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَ لَنَا: " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَلَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا: ”صدقہ لوگوں کی میل کچیل ہے اور نہ تو یہ محمد ﷺ کے لیے جائز ہے اور نہ ہی ان کی آل کے لیے۔“
حدیث نمبر: 13241
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔