کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اسلام کے غلبہ اور تالیف قلب سے بے نیاز ہو جانے کے وقت مؤلفۃ القلوب کا حصہ ساقط ہونے اور انہیں نہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13189
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: جَاءَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عِنْدَنَا أَرْضًا سَبِخَةً لَيْسَ فِيهَا كَلَأٌ وَلَا مَنْفَعَةٌ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَقْطَعَنَاهَا لَعَلَّنَا نَزْرَعَهَا وَنَحْرُثَهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْإِقْطَاعِ، وَإِشْهَادِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ وَمَحْوِهِ إِيَّاهُ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَأَلَّفُكُمَا وَالْإِسْلَامُ يَوْمَئِذٍ ذَلِيلٌ، وَإِنَّ اللهَ قَدْ أَعَزَّ الْإِسْلَامَ فَاذْهَبَا، فَأَجْهِدَا جَهْدَكُمَا لَا أَرْعَى الله عَلَيْكُمَا إِنْ رَعَيْتُمَا " وَيُذْكَرُ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ أَحَدٌ، إِنَّمَا كَانُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انْقَطَعَتِ الرِّشَا، وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: أَمَّا الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ فَلَيْسَ الْيَوْمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما دونوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! ہمارے پاس بنجر زمین ہے جس میں کوئی انگوری نہیں اور نہ کوئی نفع مند چیز، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان میں کھیتی اور زراعت وغیرہ کریں تو آپ ہمیں وہ زمین دے دیں۔“ آگے لمبی حدیث ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”محمد ﷺ نے تم کو اس لیے دی تھی کہ تمہاری تالیفِ قلبی ہو اور اسلام ان دنوں پسماندہ حالات میں تھا، اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دی ہے اس لیے تم جاؤ اور محنت مشقت کرو، جب اللہ تعالیٰ نے رعایت نہیں کی تو میں بھی نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13189
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13190
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ الْهَرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ وَأَبَا بُرْدَةَ بِالزَّكَاةِ وَهُمَا عَلَى بَيْتِ الْمَالِ فَأَخَذَاهَا، ثُمَّ جِئْتُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدْتُ أَبَا وَائِلٍ وَحْدَهُ، فَقَالَ: رُدَّهَا فَضَعْهَا مَوَاضِعَهَا، قُلْتُ: فَمَا أَصْنَعُ بِنَصِيبِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ قَالَ: " رُدَّهُ عَلَى آخَرِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابو وائل اور ابوبردہ رحمہما اللہ کے پاس زکاۃ لے کر آیا اور ان دونوں کی ذمہ داری بیت المال پر تھی اور انہوں نے اس مال کو وصول کر لیا۔ پھر میں دوسری مرتبہ جب زکاۃ لے کر آیا تو صرف ابو وائل رحمہ اللہ تھے، انہوں نے کہا کہ اس مال کو لے جاؤ اور اس کو مستحق میں تقسیم کر دو تو میں نے کہا: میں ان لوگوں کے حصے کا کیا کروں جن کو تالیفِ قلبی کے لیے دیا جاتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: اس کو دوسروں پر لوٹا دو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»