کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس (صدقہ) میں سے کوئی چیز نہ چھپائی جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدُ آبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ ⦗٢٥⦘ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا، فَمَا فَوْقَهُ، فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَامَ رَجُلٌ أَسْوَدُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: تَحَمَّلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ قَالَ: " وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ، فَلْيَأْتِنَا بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُعْطِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے ہمارے ساتھ کوئی کام کیا، پھر اس نے اگر ایک سوئی بھی چھپالی یا اس سے بھی کوئی چھوٹی چیز تو وہ خائن ہے، وہ قیامت والے دن آئے گا اور وہ چیز اس کے ساتھ (ہوگی)۔“ ایک سیاہ رنگ کا آدمی کھڑا ہوا، راوی کہتا ہے کہ میرے خیال میں یہ انصار کا آدمی تھا، اس نے کہا: یہ کام قبول کرلے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے کہا کہ ابھی آپ نے اس کے بارے میں وعید سنائی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس کو ہم نے کسی کام پر عامل بنایا وہ چھوٹی اور بڑی سب چیزیں لے کر آئے، جو اس کو دیا جائے اس کو لے لے اور جس چیز سے روکا جائے اس سے رک جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13172
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، فَذَكَرَهُ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ كَأَنِّي أُرَاهُ، فَقَالَ: دُونَكَ عَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنِ الْفَضْلِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، اسی حدیث کی مثل ہے جو پیچھے گزری۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13173
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ الْعَامِلُ حِينَ قَدِمَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، فَنَظَرْتَ إِنْ كَانَ يُهْدَى لَكَ أَمْ لَا؟ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً عَلَى الْمِنْبَرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ " فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِيَنَا، فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَنَظَرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَقْبَلُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ وَلَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا وَلَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ " قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَاسْأَلُوهُ ⦗٢٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کسی کو صدقے پر عامل بنایا، جب عامل آیا تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہے، یہ میرے لیے جو مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھا رہتا تو کیا تجھے یہ تحفے دیے جاتے یا نہ؟“ پھر آپ ﷺ شام کو منبر پر کھڑے ہوئے اور نماز کے بعد اللہ کی تعریف اور ثنا بیان کی جو اس کے لائق تھی، پھر آپ نے فرمایا: ”عاملوں (صدقے لینے والوں) کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم ان کو صدقوں پر مقرر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے تحفے ہیں اور یہ صدقے کا مال ہے۔ اگر وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھا رہے اور پھر دیکھے کہ کیا اس کو تحفے دیے جاتے ہیں یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی سے کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جائے گی مگر وہ قیامت والے دن اس کو لے کر آئے گا، اگر وہ اونٹ ہوں گے تو اس نے اپنے کندھوں پر اس کو اٹھایا ہوا ہو گا اور اس کی بلبلانے کی آواز ہو گی اور اگر وہ گائے ہو گی تو اس کے بولنے کی آواز آ رہی ہو گی اور اگر وہ بکری ہو گی تو وہ اس کو بھی لے کر آئے گا اور اس کی منمنانے کی آواز ہو گی، بے شک میں نے یہ تمام باتیں تم کو بتا دی ہیں۔“
ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سنا تو تم انہیں سے پوچھو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13174
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري، مسلم1832»
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ "، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: يَعْنِي الْعَشَّارَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَالْمَكْسُ: هُوَ النُّقْصَانُ، فَإِذَا كَانَ الْعَامِلُ فِي الصَّدَقَاتِ يَنْتَقِصُ مِنْ حُقُوقِ الْمَسَاكِينِ، وَلَا يُعْطِيهِمْ إِيَّاهَا بِالتَّمَامِ، فَهُوَ حِينَئِذٍ صَاحِبُ مَكْسٍ يُخَافُ عَلَيْهِ الْإِثْمُ وَالْعُقُوبَةُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”(ظلماً) ٹیکس لینے والا جنت میں کبھی بھی داخل نہ ہوگا۔“
ٹیکس سے مراد وہ نقصان ہے جو عامل مساکین کے حقوق میں کمی کرتا ہے اور انہیں ان کے پورے حقوق نہیں دیتا، (جب وہ یہ کام کرے گا) تو وہ صاحبِ ٹیکس ہوگا۔ اس پر جو گناہ ہے اور اس کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13175
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»