کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عوام کی زبانوں پر زیادہ تر یہ ہے کہ پھلوں میں عشر، مویشیوں میں صدقہ اور چاندی میں زکوٰۃ ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ان سب کا نام صدقہ رکھا ہے
حدیث نمبر: 13123
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عرب صدقہ اور زکوٰۃ کہتے تھے۔ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ سے کم اوقیہ میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم میں بھی صدقہ نہیں لیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13123
درجۂ حدیث محدثین: بخاري، مسلم 979
تخریج حدیث «بخاري، مسلم 979»
حدیث نمبر: 13124
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ، فَيَتْرُكُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْهُ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَ، تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ يَعُودُ أُولَاهَا عَلَى أُخْرَاهَا " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، فَسُمِّيَ الْوَاجِبُ فِي الْمَاشِيَةِ زَكَاةً.
حافظ ثناء اللہ
ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، پھر اس حدیث کو ذکر کیا جس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”جو آدمی فوت ہو گیا اور اس نے بکریاں چھوڑیں یا اونٹ چھوڑے یا گائیں چھوڑیں جن کی اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی، تو وہ اس آدمی کے پاس موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے کھروں کے ساتھ اس آدمی کو روندیں گے اور اپنے سینگوں کے ساتھ اس کو ماریں گے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، پھر ان (جانوروں) کا پہلا (جانور) آخری پر دوبارہ لوٹے گا (یعنی جب آخری جانور گزر جائے گا) تو پہلا پھر آ جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13124
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1460۔ مسلم 990»
حدیث نمبر: 13125
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٩⦘ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكَرْمِ: " يُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، ثُمَّ يُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا " فَسُمِّيَ الْعُشْرُ فِي الْكَرْمِ وَالنَّخْلِ زَكَاةً ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”انگوروں کی زکوٰۃ کا اندازہ لگایا جائے گا، جیسا کھجوروں کا اندازہ لگایا جاتا ہے، پھر اس کی زکوٰۃ منقہ دی جائے گی جس طرح کھجوروں کی زکوٰۃ «تَمْرٌ» یعنی خشک کھجوریں دی جاتی ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13125
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»