حدیث نمبر: 12656
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ (انہوں نے فرمایا): ”حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ ایک ایسی بیماری میں میری عیادت کے لیے تشریف لائے جس سے میں موت کے کنارے پہنچ گیا تھا۔“ پھر انہوں نے اپنی وصیت کے بارے میں (پوری) حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 12656
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: " رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي طَعْنِهِ، قَالَ: " فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ، فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ "، قَالَ: " فَقَائِلٌ يَقُولُ: لَا بَأْسَ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: نَخَافُ عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ وَفِي أَمْرِ الشُّورَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (زخمی ہونے سے پہلے) دیکھا، پھر مدینہ میں ان کو نیزہ مارے جانے والی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب انہیں گھر لایا گیا تو ہم بھی ان کے ساتھ تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور ایک نے کہا: ہمیں ڈر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس نبیذ لائی گئی اور آپ کو پلائی گئی، تو وہ زخم سے باہر نکل آئی۔ پھر دودھ پلایا گیا، وہ بھی زخم سے باہر نکل آیا، تو انہوں نے پہچان لیا کہ وہ وفات پا جائیں گے، پھر عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے شوریٰ کے معاملہ والی وصیت کا ذکر کیا۔