کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
حدیث نمبر: 12432
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الْإِخْوَةَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةَ لِلْأَبِ مَا كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ الْمَالِ، فَإِنْ كَثُرَتِ الْإِخْوَةُ أُعْطِيَ الْجَدُّ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلْإِخْوَةِ مَا بَقِيَ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ} [النساء: ١١] الْأُنْثَيَيْنِ، وَقَضَى أَنَّ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ بَنِي الْأَبِ ذُكُورِهِمْ وَإِنَاثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّ بَنِي الْأَبِ يُقَاسِمُونَ الْجَدَّ لِبَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ ⦗٤٠٧⦘ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِمْ، وَلَا يَكُونُ لِبَنِي الْأَبِ مَعَ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَنُو الْأَبِ يَرُدُّونَ عَلَى بَنَاتِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ بَعْدَ فَرَائِضِ بَنَاتِ الْأَبِ وَالْأُمِّ فَهُوَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ".
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دادا کی تقسیم کا فیصلہ حقیقی اور علاتی بھائیوں کے ساتھ کیا کہ ثلث مال سے جو ان کے لیے بہتر ہو۔ اگر بھائی زیادہ ہوں تو دادا کو ثلث اور بھائیوں کے لیے باقی ماندہ ہوگا ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت اور فیصلہ کیا کہ حقیقی اولاد، علاتی اولاد (مذکر ہو یا مؤنث) سے زیادہ حق دار ہے، اس کے علاوہ کہ علاتی بھائی حقیقی بہن بھائیوں کی «مُقَاسَمَةُ الْجَدِّ» (دادا کے ساتھ تقسیم) میں (شریک) ہوں تو وہ حقیقی بہن بھائیوں پر لوٹائی جائے گی۔
اور علاتی اولاد کے لیے حقیقی اولاد کے ساتھ کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ علاتی بیٹوں کو حقیقی بیٹیوں پر لوٹایا جائے۔ اگر حقیقی بیٹیوں کو حصہ دینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ علاتی بھائیوں کے لیے ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا۔
اور علاتی اولاد کے لیے حقیقی اولاد کے ساتھ کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ علاتی بیٹوں کو حقیقی بیٹیوں پر لوٹایا جائے۔ اگر حقیقی بیٹیوں کو حصہ دینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ علاتی بھائیوں کے لیے ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا۔
حدیث نمبر: 12433
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ "، فَذَكَرَ الرِّسَالَةَ بِطُولِهَا، وَفِيهَا: " إِنِّي رَأَيْتُ مِنْ نَحْوِ قَسْمِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ، إِذَا كَانَ أَخًا وَاحِدًا ذَكَرًا مَعَ الْجَدِّ قَسَمَ مَا وَرِثَا بَيْنَهُمَا شَطْرَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجَدِّ أُخْتٌ وَاحِدَةٌ قَسَمَ لَهَا الثُّلُثَ، فَإِنْ كَانَتَا أُخْتَيْنِ مَعَ الْجَدِّ قَسَمَ لَهُمَا الشَّطْرَ وَلِلْجَدِّ الشَّطْرَ، فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجَدِّ أَخَوَانِ فَإِنَّهُ يَقْسِمُ لِلْجَدِّ الثُّلُثَ، فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي لَمْ أَرَهُ حَسِبْتُ يُنْقِصُ الْجَدَّ مِنَ الثُّلُثِ شَيْئًا، ثُمَّ مَا خَلَصَ لِلْإِخْوَةِ مِنْ مِيرَاثِ أَخِيهِمْ بَعْدَ الْجَدِّ فَإِنَّ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ هُمْ أَوْلَى بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ بِمَا فَرَضَ اللهُ لَهُمْ دُونَ بَنِي الْعَلَّةِ، فَلِذَلِكَ حَسِبْتُ نَحْوًا مِنَ الَّذِي كَانَ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَقْسِمُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ، وَلَمْ يَكُنْ يُوَرِّثُ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ الَّذِينَ لَيْسُوا مِنَ الْأَبِ مَعَ الْجَدِّ شَيْئًا "، قَالَ: " ثُمَّ حَسِبْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ نَحْوَ الَّذِي كَتَبْتُ بِهِ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن ابوالزناد کہتے ہیں: یہ رسالہ ابوالزناد نے خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑوں سے لیا ہے: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے، اس کے لمبا ہونے اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا اور میں نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقسیم دادا اور علاتی بھائیوں کے درمیان کو دیکھا، جب ایک بھائی ہو دادا کے ساتھ تو دونوں کے درمیان وراثت دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ اگر دادا کے ساتھ ایک بہن ہو تو بہن کے لیے ثلث اور اگر دادا کے ساتھ دو ہوں تو دونوں کے لیے نصف اور نصف دادا کے لیے۔ اگر دادا کے ساتھ دو بھائی ہوں تو دادا کے لیے ثلث اور اگر بھائی زیادہ ہوں تو میرے خیال میں وہ ثلث سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے، پھر جو ان کے بھائی کی وراثت سے ان کے لیے بچ جائے دادا کے بعد تو حقیقی اولاد کے لیے جو اللہ نے ان کے لیے فرض کیا ہے علاتی اولاد کے علاوہ۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ جد اور علاتی بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے اور اخیافی بھائیوں کو وارث نہ بناتے تھے، پھر میں نے خیال کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح دادا اور بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے جس طرح میں نے آپ کی طرف لکھا ہے۔
حدیث نمبر: 12434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْجَدِّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلِيَّ تَسْأَلُنِي عَنِ الْجَدِّ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ مَا لَمْ يَكُنْ يَقْضِي فِيهِ إِلَّا الْأُمَرَاءُ، يَعْنِي الْخُلَفَاءَ، وَقَدْ حَضَرْتُ الْخَلِيفَتَيْنِ قَبْلَكَ يُعْطِيَانِهِ النِّصْفَ مَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ، وَالثُّلُثَ مَعَ الِاثْنَيْنِ، فَإِنْ كَثُرَ الْإِخْوَةُ لَمْ يُنْقِصَاهُ مِنَ الثُّلُثِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور دادے کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ نے مجھ سے دادے کے بارے میں سوال کیا ہے، «اللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتے ہیں“ اور اس مسئلہ میں خلفاء فیصلہ کرتے تھے، میں آپ سے پہلے دو خلفاء کے پاس گیا ہوں، وہ دونوں دادے کو ایک بھائی کے ساتھ نصف دیتے تھے اور دو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے، اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ثلث سے کم نہ کرتے تھے۔
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم دادے کو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے۔
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم دادے کو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12435
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ مِنْ كِتَابِهِ، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِي الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ الثُّلُثَ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِيهِ السُّدُسَ، وَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَكُونَ قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ فَأَعْطِهِ ⦗٤٠٨⦘ الثُّلُثَ "، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَا هُنَا أَعْطَاهُ السُّدُسَ. فَقَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُهُمَا فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِ أَحَدِهِمَا فِي الْفُرْقَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سدس دیتے تھے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہاں آئے تو سدس دیتے تھے، عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ان دونوں کی رائے تمام جماعت میں میرے نزدیک کسی ایک کی رائے کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 12436
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ " يُعْطِي الْجَدَّ الثُّلُثَ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى السُّدُسِ، وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يُعْطِيهِ السُّدُسَ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى الثُّلُثِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دادے کو ثلث دیتے تھے، پھر سدس دینا شروع کر دیا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ پہلے سدس دیتے تھے پھر ثلث پر آ گئے۔
حدیث نمبر: 12437
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللهِ يُقَاسِمَانِ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ السُّدُسُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ: " مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَقَاسِمْ بِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ "، فَأَخَذَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیں کہ عمر اور عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں دادے کے لیے بھائیوں کے ساتھ «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ بہتر سمجھتے تھے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ ہم نے «مُقَاسَمَةُ الْجَدِّ» ”دادا کی تقسیم“ میں اپنی رائے (کے ساتھ تقسیم میں) زیادتی کی ہے، یعنی نقصان پہنچایا ہے، جب تیرے پاس میرا خط آئے تو ان کے درمیان «الثُّلُثُ» ”تہائی حصہ“ کی تقسیم رکھنا، یہ بہتر تقسیم ہے، پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 12438
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: " اجْعَلْهُ كَأَحَدِهِمْ، وَامْحُ كِتَابِي ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادا کے بارے میں بتائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اسے بناؤ گویا کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ہے اور میرا خط مٹا دو۔
حدیث نمبر: 12439
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الْبَصْرَةِ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنْ أَعْطِهِ سُبْعَ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بصرہ سے لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادے کے بارے میں فیصلہ کریں تو علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اسے مال کا ساتواں حصہ دے دو۔
حدیث نمبر: 12440
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَخًا حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سلمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دادے کو بھائی کی مانند بناتے تھے، یہاں تک کہ وہ چھ ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 12441
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يُشْرِكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى سِتَّةٍ هُوَ سَادِسُهُمْ، فَإِذَا كَثُرُوا أَعْطَاهُ السُّدْسَ، وَيُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، وَلَا ⦗٤٠٩⦘ يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ، وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا يَزِيدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَى السُّدُسِ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ غَيْرُهُ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ أَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ، وَجَعَلَ النِّصْفَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ جَعَلَهَا مِنْ عَشَرَةٍ: لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ خَمْسَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَلِلْأَخِ لِلْأَبِ سَهْمَانِ، وَلِلْأُخْتِ لِلْأَبِ سَهْمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دادے کو بھائیوں کے ساتھ چھ تک شریک کرتے تھے اور وہ ان میں چھٹا ہوتا تھا، جب وہ زیادہ ہوتے تو دادے کو «سُدُس» دیتے تھے اور ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دیتے تھے، اور اخیافی بھائی بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور نہ علاتی بھائی کے ساتھ حقیقی بھائی کے لیے تقسیم کرتے تھے، اور دادے کو اولاد کے ساتھ «سُدُس» سے زیادہ نہ دیتے تھے مگر یہ کہ اس کے علاوہ کوئی نہ ہو، اور جب حقیقی بہن اور علاتی بھائی ہوتا دادے کے ساتھ تو بہن کو نصف اور نصف دادے اور بھائی کو دے دیتے تھے، اور جب حقیقی بہن اور علاتی بھائی، بہن اور دادا ہوتے تو دس حصے کرتے اور نصف یعنی پانچ حقیقی بہن کو اور دو حصے دادے کو اور دو حصے علاتی بھائی اور علاتی بہن کو دے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12442
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ، أنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ " يُشْرِكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ، فَإِنْ كَانَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَيُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ، وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا يُوَرِّثُ ابْنَ الْأَخِ مَعَ الْجَدِّ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ أَعْطَى الْأُخْتَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ، وَلَا يُعْطِي الْأَخَ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ وَأَخَوَاتٌ وَجَدٌّ وَمَنْ لَهُ مَعَهُمْ فَرِيضَةٌ أَعْطَى كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، فَإِنْ كَانَ ثُلُثُ مَا يَبْقَى خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ قَاسَمَ، وَإِنْ كَانَ سُدُسُ جَمِيعِ الْمَالِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ سُدُسِ جَمِيعِ الْمَالِ قَاسَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دادے کو بھائیوں کے ساتھ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ تک شریک کرتے تھے۔ اگر اس کے لیے «الثُّلُثُ» ”تہائی“ بہتر ہوتا تو اس کو «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے اور ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دے دیتے تھے اور اخیافی بھائی بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور نہ علاتی بھائی کے لیے حقیقی بھائی کے ساتھ تقسیم کرتے تھے اور نہ ہی بھتیجے کو دادے کے ساتھ وارث بناتے تھے اور جب حقیقی بہن، علاتی بھائی اور دادا ہوتا تو حقیقی بہن کو نصف اور دادے کو نصف دیتے اور بھائی کو کچھ نہ دیتے تھے اور جب بھائی، بہن اور دادا ہوتے تو ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دیتے اور اگر باقی ماندہ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ ہوتا اور اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو باقی ماندہ کا «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے تھے اور اگر اس کے لیے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔ اگر مکمل مال سے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دیتے تھے۔ اگر اس کے لیے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ سے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12443
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ، وَكَذَا قَالَ فِي ابْنَةٍ وَأُخْتَيْنِ وَجَدٍّ، وَفِي ابْنَةٍ وَأَخَوَاتٍ وَجَدٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بیٹی، بہن اور دادے کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف، دادے کے لیے سدس اور بہن کے لیے باقی ماندہ ہے، اور اسی طرح بیٹی، دو بہنوں اور دادے کے بارے میں اور بیٹی، زیادہ بہنوں اور دادے کے بارے میں کہا۔
حدیث نمبر: 12444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ، قَالَ: " مِنْ أَرْبَعَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ سَهْمٌ، وَإِنْ كَانَتَا أُخْتَيْنِ فَمِنْ ثَمَانِيَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ أَرْبَعَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سَهْمٌ سَهْمٌ، فَإِنْ كَانَتْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَمِنْ عَشَرَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ خَمْسَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَهُوَ خُمُسُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمٌ سَهْمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے بارے میں کہا: چار حصے ہوں گے، یعنی نصف یعنی دو حصے بیٹی کے لیے، دادا کے لیے ایک حصہ اور بہن کے لیے بھی ایک حصہ۔ اگر دو بہنیں ہوں تو آٹھ حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی چار حصے اور دادا کے لیے دو حصے اور دو بہنوں کے لیے ایک ایک حصہ ہوگا۔ اگر تین بہنیں ہوں تو دس حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی پانچ، دادا کے لیے دو حصے اور باقی تین حصے تینوں بہنوں کے لیے ایک ایک۔
حدیث نمبر: 12445
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ " كَانَ يُشْرِكُ الْجَدَّ إِلَى الثُّلُثِ مَعَ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ، فَإِذَا بَلَغَ الثُّلُثَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مَا بَقِيَ، وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ شَيْئًا، وَلَا ⦗٤١٠⦘ يُقَاسِمُ بِهِمْ، وَكَانَ يُقَاسِمُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ مَعَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَلَا يُوَرِّثُهُمْ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٌّ أَعْطَاهُ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ، وَإِذَا كَانَا أَخَوَيْنِ وَجَدٌّ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَإِنْ زَادُوا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَمَا بَقِيَ كَانَ لِلْإِخْوَةِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ وَجَدٌّ أَعْطَاهَا الثُّلُثَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ الثُّلُثَيْنِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتَانِ وَجَدٌّ أَعْطَاهُمَا النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَبْلُغْنَ خُمُسًا، فَإِذَا بَلَغْنَ خُمُسًا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَخَوَاتِ، فَإِنْ لَحِقَتْ فَرَائِضُ امْرَأَةٍ أَوْ زَوْجٍ أَوْ أُمٍّ أَعْطَى أَهْلَ الْفَرَائِضِ فَرَائِضَهُمْ، وَمَا بَقِيَ قَاسَمَ الْإِخْوَةَ وَالْأَخَوَاتِ، فَإِنْ كَانَ ثُلُثُ مَا بَقِيَ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ مَا بَقِيَ قَاسَمَ، وَإِنْ كَانَ سُدُسُ جَمِيعِ الْمَالِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، وَإِنْ كَانَ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ سُدُسِ جَمِيعِ الْمَالِ قَاسَمَ. وَفِي الْأَكْدَرِيَّةِ إِذَا كَانَ زَوْجٌ وَأُمٌّ وَأُخْتٌ وَجَدٌّ جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ ثُمَّ ضَرَبَهَا فِي ثَلَاثَةٍ فَكَانَ مِنْ سَبْعَةٍ وَعِشْرِينَ، فَأَعْطَى الزَّوْجَ تِسْعَةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْأُمَّ سِتَّةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْجَدَّ ثَمَانِيَةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْأُخْتَ أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ثلث تک شریک کرتے تھے، جب (حصہ) ثلث تک پہنچ جاتا تو اس کو ثلث دیتے تھے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں کے لیے (ہوتا) تھا، اور وہ اخیافی بھائی اور بہن کو دادا کے ساتھ وارث نہیں بناتے تھے اور ان کے ساتھ تقسیم کرتے تھے، اور علاتی بھائیوں کو حقیقی بھائیوں کے ساتھ (شمار کر کے) تقسیم کرتے تھے اور انہیں کسی چیز کا وارث نہیں بناتے تھے، اور جب حقیقی بھائی اور دادا ہوتے تو دونوں کو نصف نصف دے دیتے تھے، اور جب دو بھائی اور دادا ہوتے تو ان کو ثلث دیتے تھے، اور جب وہ (بھائی) زیادہ ہوتے تو دادا کو ثلث اور باقی ماندہ بھائیوں کو دے دیتے تھے، اور جب بہن اور دادا ہوتے تو بہن کو ثلث اور دادا کو دو ثلث دیتے تھے، اور جب دو بہنیں اور دادا ہوتے تو دونوں بہنوں کو نصف اور دادا کو بھی نصف دیتے تھے، یہاں تک کہ پانچ بہنیں ہوں تب بھی ایسا ہی تھا، جب (بہنیں) پانچ ہو جاتیں تو دادا کو ثلث اور باقی بہنوں کو دے دیتے تھے۔ پس اگر (ان حصوں کے ساتھ) عورت، خاوند اور ماں کے حصے مل جاتے تو ہر صاحبِ فرائض کو اس کا حصہ دیتے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اگر (باقی کا) ثلث اس (دادا) کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو ثلث دے دیتے تھے، اگر ثلث سے تقسیم اس کے لیے بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے، اور اگر سارے مال کا سدس اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو سدس اسے دے دیتے تھے، اور اگر سدس سے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے، اور «الأَكْدَرِيَّةُ» میں جبکہ خاوند، ماں، بہن اور دادا ہوتے تو اس (مسئلے) کو نو حصوں میں کرتے، پھر نو کو تین سے ملاتے تھے تو یہ ستائیس ہو گئے، پھر خاوند کو نو حصے دیتے، ماں کو چھ حصے دیتے، دادا کو آٹھ حصے دیتے اور بہن کو چار حصے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12446
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَأنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، وَأنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ أَنَّهُم يُخَلَّفُونَ وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَكَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ فِي ذَلِكَ وَيَحْسِبُ أَنَّهُ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ الثُّلُثُ مِمَّا يَحْصُلُ لَهُ وَلِلْإِخْوَةِ، أَمْ يَكُونُ أَخًا وَيُقَاسِمُ الْإِخْوَةَ فِيمَا حَصَلَ لَهُمْ وَلَهُ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، أَوِ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ فَارِغًا؟ فَأِيُّ ذَلِكَ مَا كَانَ أَفْضَلَ لِحَظِّ الْجَدِّ أُعْطِيَهُ، وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَاحِدَةٍ تَكُونُ قَسْمُتهُمْ فِيهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَهِيَ امْرَأَةٌ تُوِفِّيَتْ وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَجَدَّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا، فَيُفْرَضُ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، ثُمَّ يُجْمَعُ سُدُسُ الْجَدِّ وَنِصْفُ الْأُخْتِ فَيُقَسَّمُ أَثْلَاثًا، لِلْجَدِّ مِنْهُ الثُّلُثَانِ، وَلِلْأُخْتِ الثُّلُثُ، وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ مَعَ الْجَدِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ وأب كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ سَوَاءً، ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ، وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخِوَةُ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ وَالْإِخْوَةُ مِنَ الْأَبِ، فَإِنَّ بَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ يُعَادُّونَ الْجَدَّ بِبَنِي أَبِيهِمْ، فَيَمْنَعُونَهُ بِهِمْ كَثْرَةَ الْمِيرَاثِ، فَمَا حَصَّلَ للْإِخْوَةُ بَعْدَ حَظِّ ⦗٤١١⦘ الْجَدِّ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ يَكُونُ لِبَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ خَاصَّةً دُونَ بَنِي الْأَبِ، وَلَا يَكُونُ لِبَنِي الْأَبِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَنُو الْأُمِّ وَالْأَبِ إِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، فَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً وَاحِدَةً فَإِنَّهَا تُعَادُّ الْجَدَّ بِبَنِي أَبِيهَا مَا كَانُوا، فَمَا حَصَلَ لَهَا وَلَهُمْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ لَهَا دُونَهُمْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ نِصْفَ الْمَالِ كُلَّهُ، فَإِنْ كَانَ فِيمَا يُحَازُ لَهَا وَلَهُمْ فَضْلٌ عَنْ نِصْفِ الْمَالِ كُلِّهِ فَإِنَّ ذَلِكَ الْفَضْلُ يَكُونُ بَيْنَ بَنِي الْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ دادا کی وراثت حقیقی بھائیوں کے ساتھ اس طرح ہے کہ ان کو پیچھے چھوڑا جائے گا اور پہلے اہل فرائض کو ان کے حصے دیے جائیں گے، باقی ماندہ دادا اور بھائیوں کے لیے ہے۔ اس میں غور کیا جائے گا اور حساب لگایا جائے گا تو دادے کے لیے افضل حصہ ثلث ہے جو اسے ملتا ہے اور بھائیوں یا ایک بھائی کے ساتھ تقسیم میں جو اسے حاصل ہو ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت، یا سارے مال کا سدس۔ پس ان میں سے جو بھی افضل ہو دادے کو دیا جائے گا۔ اس کے بعد جو بچے گا وہ حقیقی بھائیوں میں ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا، مگر یہ کہ کوئی ایسا حصہ ہو جس میں ان کی تقسیم اس کے علاوہ ہو، مثلاً عورت فوت ہو جائے اور خاوند، ماں، دادا اور علاتی بہن چھوڑے تو شوہر کے لیے نصف، ماں کے لیے ثلث، دادے کے لیے سدس، بہن کے لیے نصف، پھر جمع کیا جائے گا دادا کے سدس اور بہن کے نصف کو، پس اسے تین میں تقسیم کیا جائے گا، اس کے لیے دو تہائی اور بہن کے لیے ثلث ہوگا اور علاتی بھائیوں کی وراثت حقیقی بھائیوں کی طرح ہے، مذکر و مؤنث میں برابر ہوں گے۔ جب حقیقی اور علاتی بھائی جمع ہو جائیں تو حقیقی اولاد دادا کو علاتی اولاد کے ساتھ شمار کرے گی، پس وہ اسے روک دیں گے میراث زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ دادا کے حصے کے بعد جو بھائیوں کو ملے گا وہ حقیقی اولاد کا ہو جائے گا، علاتی کے علاوہ اور علاتی اولاد کے لیے کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ حقیقی اولاد صرف ایک عورت ہو تو وہ دادا کو علاتی اولاد کے ساتھ شمار کرے گی، تو اس عورت اور ان کو کچھ نہیں ملے گا، اس کے لیے اور ان کے لیے وہ ہے جو نصف مال کو مکمل کر دے اور اگر اس میں اس کے لیے کوئی خاص مال ہے تو وہ تمام نصف مال سے جو زائد ہے، اگر زائد ہے تو مرد کو دو عورتوں کے برابر ملے گا۔ اگر زائد نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں۔