کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: دادا کے احکام و مسائل پر مشتمل تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: دادا کی وراثت کا بیان
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَمَّامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ، أنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ، فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: " لَكَ السُّدُسُ "، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ: لَكَ سُدُسٌ آخَرُ "، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ: " إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میرا پوتا فوت ہو گیا ہے، میرے لیے کیا وراثت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے سدس ہے“، جب وہ واپس ہوا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے دوسرا سدس ہے“، جب وہ واپس ہوا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”دوسرا سدس کھانا ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12408
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو سَوَّارٍ الْقَاضِي، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّاسَ: " مِنْ عَلِمَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا؟ "، قَالَ مَعْقِلٌ: أَعْطَاهُ السُّدُسَ، قَالَ: " مَعَ مَنْ وَيْلَكَ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " لَا دَرَيْتَ" وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَأَنْشَدَ النَّاسَ مَنْ كَانَ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْجَدِّ شَيْئًا، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ فَقَالَ: أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ، فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا، فَقَالَ عُمَرُ: " مَا الْفَرِيضَةُ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي، فَرَكَلَهُ عُمَرُ وَقَالَ: " لَا دَرَيْتَ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْرِيَ" وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ يُونُسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَجَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لِلْجَدِّ نَصِيبًا. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ الْوَهْبِيِّ عَنْ يُونُسَ، وَرَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ عَنِ الزَّعْفَرَانِيِّ، عَنْ شَبَابَةَ، عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے سوال کیا کہ: ”دادا کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات جانتا ہے؟“ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ ﷺ نے اسے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دیا تھا،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تیرا ناس ہو، کس کے ساتھ؟“ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو نہ جانے۔“
ایک روایت میں ہے کہ عمرو بن میمون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا کہ: ”کسی نے رسول اللہ ﷺ سے دادا کے متعلق کچھ سنا ہے؟“ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ کے پاس فریضہ لایا گیا اس میں دادا بھی تھا، آپ ﷺ نے اسے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ یا «الثُّلُثُ» ”تیسرا حصہ“ دیا،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کون سا فریضہ؟“ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نہیں جانتا،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے (ہلکی سی) ضرب لگائی اور فرمایا: ”تو نہ جانے، تجھے جاننے سے کس چیز نے روکا؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12409
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلَّالِيُّ، أنا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثابتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ أَنَّهُ لَا يَرِثُ مَعَ أَبٍ دُنْيَا شَيْئًا، وَهُوَ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ وَمَعَ ابْنِ الِابْنِ يُفْرَضُ لَهُ السُّدُسُ، وَفِيمَا سِوَى ذَلِكَ مَا لَمْ يَتْرُكِ الْمُتَوَفَّى أَخًا أَوْ أُخْتًا مِنْ أَبِيهِ يَخْلُفُ الْجَدُّ، وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ ⦗٤٠١⦘ شَرَكَهُ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَإِنْ فَضَلَ مِنَ الْمَالِ السُّدُسُ فَأَكْثَرُ مِنْهُ كَانَ لِلْجَدِّ، وَإِنْ لَمْ يَفْضُلِ السُّدُسُ فَأَكْثَرُ مِنْهُ فَلِلْجَدِّ السُّدُسُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ دادا کی میراث یہ ہے کہ وہ باپ کے ساتھ کسی چیز کا وارث نہیں بنتا اور وہ (جد) مذکر اولاد اور پوتے کے ساتھ سدس کا حق دار بنتا ہے اور اس کے علاوہ جب میت علاتی بھائی یا بہن نہ چھوڑے تو دادا کو خلیفہ بنایا جاتا ہے اور پہلے اہل فرائض کے حصے دیے جائیں گے، پھر اگر مال سدس سے زیادہ ہوا تو دادا کو دے دیا جائے گا، اگر سدس سے زائد نہ ہو تو سدس ہی دادا کو دیا جائے گا۔
(40) «بَابُ التَّشْدِيدِ فِي الْكَلَامِ فِي مَسْأَلَةِ الْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْ لِلْأَبِ مِنْ غَيْرِ اجْتِهَادٍ وَكَثْرَةِ الِاخْتِلَافِ فِيهَا» ”حقیقی اور علاتی بھائیوں کے ساتھ دادا کے مسئلہ میں سختی کا بیان بغیر اجتہاد کے اور اس میں اختلاف کا بیان“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12410
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنَ الْخَمْسَةِ؛ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا يُنْتَهَى إِلَيْهِ: الْكَلَالَةُ وَالْجَدُّ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر سنا وہ فرما رہے تھے: «أَمَّا بَعْدُ» ”امابعد!“ اے لوگو! شراب کی حرمت نازل ہوئی ہے اور وہ پانچ چیزوں سے ہے: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو اور شراب وہ ہے جو عقل کو مخمور کر دے اور تین چیزیں ایسی ہیں کہ میں چاہتا تھا کہ آپ ﷺ جدا ہونے سے پہلے ہمیں اس کا حکم بتا دیتے: کلالہ، جد اور سود کے احکامات۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12411
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 5588
تخریج حدیث «بخاري 5588۔ مسلم 3033»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: " إِنِّي لَأَحْفَظُ عَنْ عُمَرَ فِي الْجَدِّ مِائَةَ قَضِيَّةٍ، كُلُّهَا يَنْقُضُ بَعْضُهَا بَعْضًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دادا کے متعلق سو فیصلے یاد کیے ہیں، سارے کے سارے بعض کو بعض سے جدا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12412
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: " حَفِظْتُ عَنْ عُمَرَ مِائَةَ قَضِيَّةٍ فِي الْجَدِّ "، قَالَ: وَقَالَ: " إِنِّي قَدْ قَضَيْتُ فِي الْجَدِّ قَضَايَا مُخْتَلِفَةً، كُلُّهَا لَا آلُو فِيهِ عَنِ الْحَقِّ، وَلَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلَى الصَّيْفِ لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ تَقْضِي بِهِ الْمَرْأَةُ وَهِيَ عَلَى ذَيْلِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد (بن سیرین) رحمہ اللہ عبیدہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جد کے بارے میں ایک سو فیصلے یاد کیے ہیں اور (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے جد کے بارے میں مختلف فیصلے کیے ہیں۔ میں نے سب فیصلوں میں حق تک پہنچنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اگر میں گرمیوں کے موسم تک زندہ رہا تو ان شاء اللہ اس بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ عورت بھی اپنے دامن پر بیٹھے بیٹھے اس کے مطابق فیصلہ کر سکے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12413
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتِفًا وَجَمَعَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكْتُبَ الْجَدَّ، وَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يَجْعَلَهُ أَبًا، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ حَيَّةٌ فَتَفَرَّقُوا، فَقَالَ: " لَوْ أَنَّ اللهَ أَرَادَ أَنْ يُمْضِيَهُ لَأَمْضَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
طارق بن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (لکھنے کے لیے) کندھے کی ایک ہڈی لی اور اصحابِ محمد ﷺ رضی اللہ عنہم کو جمع کیا تاکہ دادا کے بارے میں (فیصلہ) لکھ دیں اور ان کا خیال تھا کہ وہ اسے باپ کی جگہ پر رکھیں گے، اتنے میں ان کے سامنے ایک سانپ نکل آیا تو وہ منتشر ہو گئے، انہوں نے فرمایا: اگر اللہ اسے نافذ کرنا چاہتا تو اسے نافذ کر دیتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12414
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَافَلَائِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، وَفِيهَا: ⦗٤٠٢⦘ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا عَبْدَ اللهِ، ائْتِنِي بِالْكَتِفِ الَّتِي كَتَبْتُ فِيهَا شَأْنَ الْجَدِّ بِالْأَمْسِ " وَقَالَ: " لَوْ أَرَادَ اللهُ أَنْ يُتِمَّ هَذَا الْأَمْرَ لَأَتَمَّهُ "، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: نَحْنُ نَكْفِيكَ هَذَا الْأَمْرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: " لَا "، فَأَخَذَهَا فَمَحَاهَا بِيَدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جب انہیں زخمی کیا گیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! کندھے کی وہ ہڈی لاؤ جس میں میں نے کل دادا کا معاملہ لکھا تھا۔“ اور فرمایا: ”اگر اللہ اس معاملے کو پورا کرنا چاہتا تو اسے پورا کر دیتا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ہم اس معاملے میں آپ کے لیے کافی ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر اسے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12415
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُرَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَقَحَّمَ جَرَاثِيمَ جَهَنَّمَ فَلْيَقْضِ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر مراد کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے: ”جس کو اچھا لگے کہ جہنم کے گڑھے میں گرے اسے چاہیے کہ دادا اور بھائیوں کے درمیان فیصلہ کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12416
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»