کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے مقررہ حصوں والوں سے بچ جانے والے مال کو بیت المال میں جمع کرنے کا کہا جب کہ کوئی عصبہ یا مولیٰ پیچھے نہ چھوڑا ہو اور حصہ داروں پر کچھ بھی نہ لوٹایا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع میں سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، اب وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: " رَأَيْتُ أَبِي يَجْعَلُ فُضُولَ الْمَالِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَلَا يَرُدُّ عَلَى وَارِثٍ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد کو دیکھا، وہ زائد مال بیت المال میں داخل کرتے تھے اور وارث کو کچھ نہ دیتے تھے۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَرُدُّ عَلَى كُلِّ وَارِثٍ الْفَضْلَ بِحِصَّةِ مَا وَرَّثَ غَيْرَ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عورت اور خاوند کے علاوہ ہر وارث پر حصے کے ساتھ زائد مال لوٹا دیتے تھے۔