کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے مقررہ حصوں والوں سے بچ جانے والے مال کو بیت المال میں جمع کرنے کا کہا جب کہ کوئی عصبہ یا مولیٰ پیچھے نہ چھوڑا ہو اور حصہ داروں پر کچھ بھی نہ لوٹایا ہو
حدیث نمبر: 12405
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع میں سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، اب وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12405
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12406
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: " رَأَيْتُ أَبِي يَجْعَلُ فُضُولَ الْمَالِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَلَا يَرُدُّ عَلَى وَارِثٍ شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد کو دیکھا، وہ زائد مال بیت المال میں داخل کرتے تھے اور وارث کو کچھ نہ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12406
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12407
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَرُدُّ عَلَى كُلِّ وَارِثٍ الْفَضْلَ بِحِصَّةِ مَا وَرَّثَ غَيْرَ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عورت اور خاوند کے علاوہ ہر وارث پر حصے کے ساتھ زائد مال لوٹا دیتے تھے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ عورت، خاوند اور پوتی پر صلبی بیٹی کے ساتھ نہ لوٹاتے تھے اور حقیقی بہن کے ساتھ علاتی بہن پر اور نہ ماں کے ساتھ اخیافی بھائیوں پر اور نہ جدہ پر مگر یہ کہ اس (جدہ) کے علاوہ کوئی وارث نہ ہوتا اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ وارث پر کچھ نہ لوٹاتے تھے، بلکہ اسے بیت المال میں داخل کردیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12407
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»