کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نیچے والے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) کے متعلق جو احکام مروی ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٣٩٧⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا هَلْ لَهُ وَارِثٌ "، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا غُلَامًا كَانَ لَهُ فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْفَعُوا إِلَيْهِ مِيرَاثَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے دور میں فوت ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، مگر صرف ایک غلام ہے، جسے اس نے آزاد کیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کی میراث دے دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا لَهُ هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ " وَخَالَفَهُمَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، فَرَوَاهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے دور میں فوت ہو گیا اور سوائے ایک غلام کے کوئی وارث نہ چھوڑا جسے اس نے آزاد کیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے اس کی میراث دے دی۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ، وَعَارِمٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَوْسَجَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا مَوْلًى لَهُ هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ " قَالَ الْقَاضِي: هَكَذَا رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ مُرْسَلًا، لَمْ يَبْلُغْ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ عوسجہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور سوائے ایک غلام کے، جسے اس نے آزاد کیا تھا، کوئی وارث نہ چھوڑا۔ نبی ﷺ نے اس کو اس کی میراث دے دی۔
قاضی کہتے ہیں: حماد بن زید نے اسی طرح اسے مرسل روایت کیا ہے، اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما تک نہیں پہنچایا۔
قاضی کہتے ہیں: حماد بن زید نے اسی طرح اسے مرسل روایت کیا ہے، اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما تک نہیں پہنچایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ رَجُلًا فَمَاتَ الَّذِي أَعْتَقَ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ، فَأَعْطَى مِيرَاثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُعْتَقَ "،.
حافظ ثناء اللہ
عوسجہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کسی کو آزاد کیا، جس نے آزاد کیا وہ فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس کی وراثت آزاد کیے ہوئے کو دے دی۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: " عَوْسَجَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَوَى عَنْهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَلَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ غَلَطٌ لَا شَكَّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”عمرو بن دینار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ عوسجہ سے روایت کیا ہے، اور اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔“
بعض راویوں نے اسے عمرو سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور یہ بلاشبہ غلطی ہے۔
بعض راویوں نے اسے عمرو سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور یہ بلاشبہ غلطی ہے۔