کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: سگی یا باپ شریک ایک، دو یا دو سے زائد بہنوں کے مقررہ حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12325
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ ⦗380⦘ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ} [النساء: 176].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ﴾ ”لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے: اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس (ترکے) کا آدھا ہے جو اس نے چھوڑا، اور وہ (بھائی) اس (بہن) کا وارث ہو گا اگر اس کی اولاد نہ ہو، پھر اگر وہ دو (بہنیں) ہوں تو ان کے لیے اس کا دو تہائی ہے جو اس نے چھوڑا۔“ [سورة النساء: 176]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12325
حدیث نمبر: 12325
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ح وَأنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ لِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ فِي وَجْهِي، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثَيْنِ؟ فَقَالَ: " أَحْسِنْ "، فَقُلْتُ: بِالشَّطْرِ؟ قَالَ: " أَحْسِنْ "، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: " يَا جَابِرُ، مَا أُرَاكَ إِلَّا مَيِّتًا "، أَوْ قَالَ: " مَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ هَذَا الْوَجَعِ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِي أَخَوَاتِكَ فَبَيَّنَ، فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ "، فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: نَزَلَتْ هَؤُلَاءِ الْآيَاتُ فِيَّ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] إِلَى آخِرِهَا لَفْظُ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَحَدِيثُ الطَّيَالِسِيِّ مُخْتَصَرٌ، وَرَوَاهُ كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَهْبٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: " يَا جَابِرُ، لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں بیمار ہوا اور میری سات بہنیں تھیں، رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے۔ میرے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ مجھے افاقہ ہوا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنی بہنوں کے ثلثان کی وصیت کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”رک جاؤ“، میں نے کہا: نصف کی۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”رک جاؤ“، پھر آپ ﷺ چلے گئے، پھر واپس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جابر! میں تجھے خیال نہیں کرتا مردہ“ یا یہ کہا: ”میں اس بیماری کی وجہ سے تجھے مردہ خیال نہیں کرتا اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے تیری بہنوں کے بارے میں نازل کیا ہے، اسے واضح کیا اور ان کے لیے دو تہائی مقرر کیا ہے“، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: یہ آیتیں میرے بارے میں اتری ہیں ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12325
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ احمد15062»