کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: فصل کاٹنے والوں کے پیچھے چلنے اور ان سے گرنے والی چیزوں کو اٹھانے کے متعلق جو مروی ہے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تَسْأَلِي أَحَدًا شَيْئًا "، قُلْتُ: إِنِ احْتَجْتُ؟ قَالَ: " تَتَبَّعِي الْحَصَّادِينَ فَانْظُرِي مَا يَسْقُطُ مِنْهُمْ فَخِذَيْهِ فَاخْبِطِيهِ ثُمَّ اطْحَنِيهِ ثُمَّ اعْجِنِيهِ ثُمَّ كُلِيهِ، وَلَا تَسْأَلِي أَحَدًا شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی چیز کا کسی سے سوال نہ کرنا۔ میں نے کہا: اگر مجھے ضرورت ہو؟ انہوں نے کہا: تو فصل کاٹنے والوں کے پیچھے پیچھے چلنا اور دیکھنا کہ ان سے کیا گرتا ہے، اسے لے لینا اور اسے جھاڑ لینا، پھر اسے پیس لینا، پھر اسے گوندھ لینا، پھر اسے کھا لینا اور کسی سے سوال نہ کرنا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12102
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ⦗٣٢٤⦘ قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: " مَا أَخَطَّتْ يَدُ الْحَاصِدِ، أَوْ جَنَتْ يَدُ الْقَاطِفِ، فَلَيْسَ لِصَاحِبِ الزَّرْعِ عَلَيْهِ سَبِيلٌ، إِنَّمَا هُوَ لِلْمَارَّةِ وَأَبْنَاءِ السَّبِيلِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو کھیتی کاٹنے والے کے ہاتھ سے گرے یا پھل توڑنے والے سے گر جائے، اس پر کھیتی والے کا کوئی حق نہیں ہے، وہ گزرنے والوں اور مسافروں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12103
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»