حدیث نمبر: 12096
ظَاهِرُ الْأَحَادِيثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُلُّ عَلَى التَّسْوِيَةِ بَيْنَ قَلِيلِ اللُّقَطَةِ وَكَثِيرِهَا فِي التَّعْرِيفِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی نبی کریم ﷺ سے مروی احادیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تشہیر کے معاملے میں گری پڑی چیز (لقطہ) کی تھوڑی اور زیادہ مقدار میں کوئی فرق نہیں ہے (دونوں برابر ہیں)۔
حدیث نمبر: 12096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعِجْلِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ زَائِدَةُ: عَنْ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک کھجور
کے پاس سے گزرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔“
کے پاس سے گزرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔“
حدیث نمبر: 12097
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ الْقَزَّازُ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ مَطْرُوحَةٍ فَقَالَ: " لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک کھجور کے پاس سے گزرے جو راستے میں پڑی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔“ راوی کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو اسے کھا لیا۔
ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں گھر میں داخل ہوتا ہوں، اپنے بستر پر پڑی کھجور پاتا ہوں“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”میں نہیں جانتا یہ کھجور صدقہ کی ہے یا گھر کی، میں اسے چھوڑ دیتا ہوں“ اور یہ لقطہ کے حکم میں نہیں آتی۔
ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں گھر میں داخل ہوتا ہوں، اپنے بستر پر پڑی کھجور پاتا ہوں“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”میں نہیں جانتا یہ کھجور صدقہ کی ہے یا گھر کی، میں اسے چھوڑ دیتا ہوں“ اور یہ لقطہ کے حکم میں نہیں آتی۔
حدیث نمبر: 12098
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ، يَلْتَقِطُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ الرَّمْلِيِّ قَالَ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ أَبِي سَلَمَةَ بِإِسْنَادِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَيْبٍ عَنْهُ أَخَذَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں چھڑی، کوڑا، رسی اور اس جیسی چیزیں اٹھانے کی اجازت دی کہ ”آدمی ان کو اٹھا لے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔“
حدیث نمبر: 12099
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَبْلَ. ⦗٣٢٣⦘ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ شَبَابَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانُوا، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: فِي رَفْعِ هَذَا الْحَدِيثِ شَكٌّ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی۔۔۔ آپ نے رسی کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 12100
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً، حَبْلًا أَوْ دِرْهَمًا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ، فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ سِتَّةَ أَيَّامٍ " تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى، وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَرَمَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَغَيْرُهُ بِشُرْبِ الْخَمْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کوئی ہلکی سی چیز گری ہوئی ملے، رسی یا درہم یا اس جیسی کوئی اور چیز، تو وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے، اگر وہ پسند کرے تو چھ دن تک کر دے۔“
حدیث نمبر: 12101
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى الْقُرَشِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَرُّوخَ مَوْلَى طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ عَنِ الْتِقَاطِ السَّوْطِ، فَقَالَتْ: " يَلْتَقِطُ سَوْطَ أَخِيهِ يَصِلُ بِهِ يَدَيْهِ، مَا أَرَى بَأْسًا "، قَالَ: وَالْحَبْلُ؟ قَالَتْ: " وَالْحَبْلُ "، قَالَ: وَالْحِذَاءُ؟ قَالَتْ: " وَالْحِذَاءُ "، قَالَ: وَالْوِعَاءُ؟ قَالَتْ: " لَا أُحِلُّ مَا حَرَّمَ اللهُ، الْوِعَاءُ يَكُونُ فِيهِ النَّفَقَةُ، وَيَكُونُ فِيهِ الْمَتَاعُ ".
حافظ ثناء اللہ
طلحہ کے غلام فروخ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان سے کوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اپنے بھائی کا کوڑا کسی کو ملے تو وہ اسے اٹھا لے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس نے کہا: رسی؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس نے پوچھا: کوئی برتن؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: برتن میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اس میں خرچ ہے اور فائدہ ہے، حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کوڑے، چھڑی اور چمڑے میں رخصت دی اگر کسی کو مل جائے۔