کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پانی، گھاس اور ان کے علاوہ دیگر اشیاء جو ظاہری کانوں سے حاصل کی جائیں اور پھر فروخت کی جائیں
حدیث نمبر: 11852
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ ⦗٢٥٣⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَجِيءَ بِحُزْمَةٍ مِنْ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مُوسَى عَنْ وَكِيعٍ. وَفِي حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاعَدْتُ رَجُلًا أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَبِيعُهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينُ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی اپنی رسی لے کر آئے اور لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر رکھ لے اور اسے بیچے تو وہ اس کی قیمت سے اپنا وقت پاس کرے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے، وہ اسے دیں یا نہ دیں۔“
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ میں نے ایک آدمی کو تیار کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے، ہم «إِذْخِر» ”اذخر“ لائیں، میں اسے مختلف طریقوں سے بیچوں گا، پھر میں اس سے ولیمہ میں اپنی مدد کروں گا۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ میں نے ایک آدمی کو تیار کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے، ہم «إِذْخِر» ”اذخر“ لائیں، میں اسے مختلف طریقوں سے بیچوں گا، پھر میں اس سے ولیمہ میں اپنی مدد کروں گا۔
حدیث نمبر: 11853
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نُصُبِي مِنَ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ، أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ.
حافظ ثناء اللہ
حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بدر کے دن مالِ غنیمت میں سے میرے حصے میں ایک اونٹنی آئی اور ایک اور اونٹنی مجھے رسول اللہ ﷺ نے خمس سے دی۔ جب میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا ارادہ کیا تو میں نے بنو قینقاع کے ایک آدمی کو، جو سنار تھا، ساتھ تیار کیا کہ ہم اذخر لائیں گے۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس کو بیچ کر اپنی شادی کے ولیمہ میں اپنی مدد کر لوں۔