کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کھیتی باڑی کرنے اور پودا لگانے کی فضیلت کا بیان جب اس میں سے کچھ کھایا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے، پھر اس سے پرندے کھاتے ہیں یا انسان یا کوئی جانور تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ نَخْلًا لِأُمِّ مُبَشِّرٍ، امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا، مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ؟ " فَقَالُوا: مُسْلِمٌ، فَقَالَ: " لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ مُسْلِمٌ: حَدَّثَنَا وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام مبشر رضی اللہ عنہا نامی انصاری عورت کے باغ میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کسی مسلمان کی شجر کاری ہے یا کافر کی؟“ انہوں نے کہا: مسلمان کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان شجر کاری کرتا ہے اس سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ ⦗٢٢٨⦘ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ بِمَا أُكِلَ مِنْهُ، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ، وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ مِنْهُ، وَمَا أَكَلَتِ الْوُحُوشُ مِنْهُ، أَوْ قَالَ: السِّبَاعُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان شجرکاری کرتا ہے، پھر اس میں سے جو کھایا گیا اور جو چوری کیا گیا اور جو پرندوں اور چوپایوں نے کھا لیا، وہ سب صدقہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ " فَقَالَتْ: لَا، بَلْ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: " لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْءٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کوئی کھیتی بوتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، جانور یا کوئی بھی چیز کھاتی ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“