السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: فضل الزرع والغرس إذا أكل منه باب: کھیتی باڑی کرنے اور پودا لگانے کی فضیلت کا بیان جب اس میں سے کچھ کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 11750
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ، أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ؟ " فَقَالَتْ: لَا، بَلْ مُسْلِمٌ، فَقَالَ: " لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْءٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا: ”یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں، مسلمان نے یا کافر نے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مسلمان نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کوئی کھیتی بوتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، جانور یا کوئی بھی چیز کھاتی ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔“