کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مساقات (باغات کے معاملے) میں عامل (کام کرنے والے) پر کام کی شرط عائد کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے باغات دیے اور زمین بھی کہ ”وہ ان میں اپنے مالوں سے کام کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کے لیے ان پھلوں کا نصف ہوگا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو الْقَاسِمِ ⦗١٩٢⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُبَيْبَ، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ وَالْمُؤْنَةَ " وَذَكَرُوا بَاقِيَ الْحَدِيثِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے اور ان کے پاس کچھ نہ تھا اور انصار زمین اور جائیداد والے تھے، تو انصار نے ان کو اس شرط پر تقسیم کر لیا کہ وہ ہر سال اپنے پھلوں کا نصف دیں گے اور ان میں کام کریں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " لَمَّا خَرَجَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ فَقَاسَمَتْهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ فِي كُلِّ عَامٍ عَلَى أَنْ يَكْفُوهُمُ الْمُؤْنَةَ وَالْعَمَلَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ کی طرف آئے اور ان کے پاس کچھ نہ تھا تو انصار رضی اللہ عنہم نے اپنی زمینیں تقسیم کر دیں، اس شرط پر کہ وہ ہر سال ان کو اپنے پھلوں کا نصف دیں گے اور ان میں کام کریں گے۔