کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیمار شخص کے اپنے وارث کے حق میں اقرار کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11456
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: " إِنْ أَقَرَّ الْمَرِيضُ لِوَارِثٍ أَوْ لِغَيْرِ وَارِثٍ جَازَ " وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي يَحْيَى السَّاجِيِّ أَنَّهُ قَالَ: رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ إِقْرَارَهُ جَائِزٌ. قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ الْحَسَنُ: أَحَقُّ مَا يَصْدُقُ بِهِ الرَّجُلُ آخِرُ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا وَأَوَّلُ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَةِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَأَوْصَى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنْ لَا تَكْشِفَ الْفَزَارِيَّةُ عَمَّا أُغْلِقَ عَلَيْهِ بَابُهَا قَالَ: وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَا يَجُوزُ إِقْرَارُهُ لِسُوءِ الظَّنِّ بِالْوَرَثَةِ، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ "، وَلَا يَحِلُّ مَالُ الْمُسْلِمِينَ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آيَةُ الْمُنَافِقِ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ "، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} [النساء: ٥٨]، فَلَمْ يَخُصَّ وَارِثًا وَلَا غَيْرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر مریض اپنے وارث یا غیر وارث کے لیے اقرار کرے تو جائز ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ آدمی کو سچا اس وقت سمجھنا چاہیے، جب دنیا میں اس کا آخری دن اور آخرت میں اس کا پہلا دن ہو، اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ ان کی بیوی فزاریہ کے دروازے میں جو مال بند ہے وہ نہ کھولا جائے۔ بعض لوگوں نے کہا: اس کا اقرار کرنا جائز نہیں، بدگمانی کی بنا پر اپنے وارث کے لیے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بدگمانی سے بچو بیشک بدگمانی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کا مال حلال نہیں ہے“۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”منافق کی نشانی یہ بھی ہے جب اسے امانت دی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے“ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 58] ”بیشک اللہ نے حکم دیا امانتوں کو ان کے اہل کی طرف پہنچا دو۔“
حدیث نمبر: 11457
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بدگمانی سے بچو، بیشک بدگمانی جھوٹی بات ہے اور کسی کے عیوب تلاش نہ کرو اور نہ جاسوسی کرو اور نہ ایک دوسرے سے بڑھو اور نہ حسد کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ کسی کی پیٹھ کے پیچھے برائی بیان کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“
حدیث نمبر: 11458
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔“
حدیث نمبر: 11459
وَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَلَا إِقْرَارَ بِدَيْنٍ " فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شَدَّادٍ هُوَ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ فَذَكَرَهُ، وَذَكَرَ جَابِرًا، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا بِهِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ جَابِرًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ نُوحٍ فَلَمْ يَذْكُرْ جَابِرًا، فَهُوَ مُنْقَطِعٌ، رَاوِيهِ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِمِثْلِهِ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے اور نہ اقرار قرض کے ساتھ۔“
حدیث نمبر: 11460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ كَذَّابٌ خَبِيثٌ قَضَى سِنِينَ وَهُوَ أَعْمَى، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: ثَلَاثَ سِنِينَ، وَكَانَ لَا يُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّهُ أَعْمَى مِنْ خُبْثِهِ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ يَدْرِي مَا الْحَدِيثُ، وَلَا يُحْسِنُ شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نوح بن دراج کذاب خبیث شخص تھا اور وہ اندھا تھا، اس کو حدیث کا کوئی علم نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 11461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ ذَلِكَ لِلْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں سمجھتے تھے۔