کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ جب وکیل کو معزول کر دیا جائے تو وہ معزول ہو جاتا ہے اگرچہ اسے (معزولی کا) علم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَضَى عُمَرُ فِي أَمَةٍ غَزَا مَوْلَاهَا وَأَمَرَ رَجُلًا بِبَيْعِهَا، ثُمَّ بَدَا لِمَوْلَاهَا فَأَعْتَقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ، وَقَدْ بِيعَتِ الْجَارِيَةُ، فَحَسَبُوا فَإِذَا عِتْقُهَا قَبْلَ بَيْعِهَا، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنْ يُقْضَى بِعِتْقِهَا، وَيُرَدَّ ثَمَنُهَا، وَيُؤْخَذَ صَدَاقُهَا، لَمَّا كَانَ قَدْ وَطِئَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس لونڈی کا فیصلہ کیا جس کا مالک غزوے پر گیا اور اس نے ایک آدمی کو اسے فروخت کرنے کا حکم دیا، پھر اس کے مالک نے اسے آزاد کر دیا اور اس پر گواہ بھی بنایا اور اسے فروخت بھی کر دیا گیا۔ پس انہوں نے اسے روک لیا جبکہ اس کی آزادی اس کی بیع سے پہلے ہو چکی تھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ اس کی آزادی برقرار رکھی جائے اور اس کی قیمت واپس کر دی جائے اور اس کا حقِ مہر لیا جائے جو اس سے وطی کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 11446
قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ: فَقَضَى عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی روایت کی طرح ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں: فیصلہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کیا۔