کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ناحق جھگڑا کرنے والے یا ناحق جھگڑے میں مدد کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 11441
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ فَقَدْ ضَادَّ اللهَ فِي مُلْكِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ، ⦗١٣٦⦘ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ حُبِسَ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے آگے حائل ہوگئی تو اس نے اللہ کی بادشاہت میں اس کی نافرمانی کی اور جو مقروض حالت میں فوت ہوا تو وہاں کوئی دینار اور درہم نہ ہوگا، بلکہ نیکیاں اور برائیاں ہوں گی اور جس نے جاننے کے باوجود باطل میں جھگڑا کیا تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا حتی کہ الگ ہوجائے اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہ تھی تو وہ «رَدَغَةِ الْخَبَالِ» ”جہنمیوں کے پیپ اور خون کا ذخیرہ“ میں قید رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے جو کہا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11441
حدیث نمبر: 11442
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ دُونَ قَوْلِهِ: " وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11442
حدیث نمبر: 11443
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ: " وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔ مزید یہ ہے کہ: ”جس نے کسی جھگڑے میں ظلم کے ساتھ مدد کی تو وہ اللہ کے غصے کے ساتھ لوٹا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11443
حدیث نمبر: 11444
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا رَجَاءٌ أَبُو يَحْيَى صَاحِبُ السَّقَطِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ مَشَى مَعَ قَوْمٍ يَرَى أَنَّهُ شَاهِدٌ وَلَيْسَ بِشَاهِدٍ فَهُوَ شَاهِدُ زُورٍ، وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ فِي سَخَطِ اللهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَقِتَالُ الْمُؤْمِنُ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی قوم کے ساتھ یہ دکھلاتے ہوئے چلا کہ وہ گواہ ہے حالانکہ وہ گواہ نہیں تھا تو وہ جھوٹی گواہی دینے والا ہے، اور جس نے کسی جھگڑے میں بغیر علم کے مدد کی تو وہ اللہ کی ناراضگی میں رہے گا حتی کہ الگ ہو جائے، اور مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے اور اسے گالی نکالنا گناہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوكالة / حدیث: 11444